650ٹیکسٹائل یونٹس،اسپننگ ملزاورجننگ فیکٹریزبند

650ٹیکسٹائل یونٹس،اسپننگ ملزاورجننگ فیکٹریزبند

پاکستان میں صنعتوں کا تیزی سے خاتمہ، چند مہینوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس، 100 سے زائدسپننگ ملز اور400 سے زائد جننگ فیکٹریزبند ، پاکستان کو ناقابلِ سرمایہ کاری ملک قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حالیہ میڈیا رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ “پاکستان میں حالیہ مہینوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس، 100 سے زائدسپننگ ملز اور400 سے زائد جننگ فیکٹریزبند ہوچکی ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں تیزی سے جا رہی ہیں۔ تیزی سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے۔ پاکستان کےلیے ناقابلِ سرمایہ کاری ملک کے الفاظ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔

سال2019میں نجی سرمایہ کاری 706 ارب روپے تھی جو 2025ءمیں کم ہوکر377 ارب روپے رہ گئی ہے یعنی تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔ حکومتی ادارے خود اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر جا چکی ہے”۔

دوسری جانب صنعتوں کے شہر میں صنعتوں کی بدترین تباہی، فیصل آباد کی 150 ٹیکسٹائل ملوں کو تالے لگ گئے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حالات بد سے بدتر ہو گئے۔

اس تمام صورتحال میں سابق وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہا کہ ملکی انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں، پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، انڈسٹری اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے اس کو بچا لیں۔

حال ہی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہاکہ کاروباری حالات ملکی حالات اور اکانومی کو بزنس کمیونٹی نے ہی چلانا ہے۔

ہم تاجر ہیں ہم حکو مت کے خلاف نہیں ہیں، اگر غلط کام کریں گے تو ہم بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوگئے ہیں، ایک ہزار یونٹس لگانے میں تین نسلیں لگ جاتی ہیں، گوجرانوالہ کی تمام انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔

مزید پڑھیں: شوگر مافیا کے جھوٹے دعوے عیاں، چینی مارکیٹ ہل کر رہ گئی

ورلڈ اکنامک گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *