بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں سی ٹی ڈی اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دس پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
بلوچستان پولیس کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں انتہائی مطلوب ملزم ثناءاللہ آغا بھی شامل ہے، جبکہ دیگر چار افراد بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر پیش قدمی کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام پانچوں دہشت گرد مارے گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا، جس میں راکٹ لانچر، دستی بم اور دیگر مہلک ہتھیار شامل ہیں۔ برآمد ہونے والا اسلحہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔
دوسری جانب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے دس پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ صوبے میں قانون کی رٹ قائم رکھنے کے لیے شرپسند عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اشتہاری اور مطلوب ملزمان کے خلاف بلوچستان پولیس کی جانب سے خصوصی مہم بھی جاری ہے، جس کا مقصد دہشت گردی، بدامنی اور جرائم کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس اور سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات کرتے رہیں گے۔