واٹس ایپ نے صارفین کی آن لائن سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا اور اہم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز کے نام سے پیش کیا جانے والا یہ فیچر خاص طور پر اُن صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جنہیں سائبر حملوں اور اسپائی وئیر جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کو فعال کرنے کے بعد صارف کے اکاؤنٹ پر خودکار طور پر سخت ترین پرائیویسی کنٹرولز نافذ ہو جائیں گے، جس سے کسی بھی غیر مجاز رسائی کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو جائیں گے۔
نئی سیٹنگز کے تحت نامعلوم کانٹیکٹس کی جانب سے بھیجی جانے والی اٹیچمنٹس، تصاویر اور دیگر میڈیا فائلز کو بلاک کر دیا جائے گا تاکہ نقصان دہ مواد سے تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیچر بالخصوص صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عوامی شخصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، کیونکہ ان صارفین کو عام افراد کے مقابلے میں سائبر حملوں کا خطرہ زیادہ لاحق ہوتا ہے۔
اسٹرکٹ اکاؤنٹ سیٹنگز کے فعال ہونے پر صارف کا اکاؤنٹ ایک طرح کے لاک ڈاؤن موڈ میں چلا جاتا ہے، جس کے تحت بعض مخصوص فنکشنز محدود کر دیے جاتے ہیں۔
صارفین اس نئے فیچر کو واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر پرائیویسی اور پھر ایڈوانسڈ کے آپشن کے ذریعے ان ایبل کر سکتے ہیں، کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مرحلہ وار فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور آنے والے چند ہفتوں میں یہ تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔
علاوہ ازیں واٹس ایپ اپنے سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے ، کمپنی نے بتایا ہے کہ ایپ میں رسٹ پروگرامنگ لینگوئج کو اپنایا جا رہا ہے، جو ایک میموری سیف زبان ہے اور میڈیا فائلز کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔
اس مقصد کیلئے واٹس ایپ نے سی پلس پلس کوڈ کی ایک لاکھ 60 ہزار لائنوں کو رسٹ کی90 ہزار لائنوں سے تبدیل کر دیا ہے، جس سے سسٹم کی کارکردگی بہتر اور میموری کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔