لاہور ہائیکورٹ نے ہتکِ عزت قانون سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے معروف گلوکار علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت میشا شفیع کو کیس کے حتمی فیصلے تک سوشل میڈیا پر بیان بازی سے روکا گیا تھا۔
یہ فیصلہ جسٹس احمد ندیم ارشد نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دیا، جسے عدالت نے آئندہ کیلئے ایک عدالتی نظیر بھی قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ زیرِ سماعت مقدمے کے دوران سوشل میڈیا پر الزامات یا تبصرے کسی بھی فریق کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے ایسی بیان بازی پر پابندی آئینی اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزت اور وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ ہتکِ عزت قانون 2002 آزادیٔ اظہار اور شہری کی ساکھ کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق آزادیٔ اظہار رائے ایک بنیادی حق ضرور ہے مگر یہ غیر مشروط نہیں اور اس کی آڑ میں کسی فرد کی تضحیک یا کردار کشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ علی ظفر ملک اور بیرونِ ملک شہرت یافتہ فنکار ہیں، جبکہ میشا شفیع کے الزامات درست ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شہادتوں کی بنیاد پر کرے گی۔ دورانِ سماعت سوشل میڈیا ٹرائل سے کسی بھی فریق کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ہرجانے کی رقم کسی کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کو ہدایت کی کہ ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ تیس روز کے اندر کیا جائے۔ واضح رہے کہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اظہارِ رائے پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔