دہشتگردی کا پھیلاؤ، اقوام متحدہ، چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوگئے، افغان حکومت کو اہم انتباہ جاری

دہشتگردی کا پھیلاؤ، اقوام متحدہ، چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوگئے، افغان حکومت کو اہم انتباہ جاری

افغانستان سے دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے حوالے سے اقوامِ متحدہ میں اس ہفتے دی گئی وارننگز میں پاکستان نمایاں طور پر زیرِ بحث رہا، جہاں چین اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس دونوں نے ملک کو متاثر کرنے والی دہشتگردانہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

وسطی ایشیا کے لیے ’کاؤنٹر ٹیررازم ارلی وارننگ نیٹ ورک‘ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر سن لی نے کہا کہ اگرچہ وسطی ایشیا مجموعی طور پر مستحکم ہے، تاہم سرحد پار دہشتگردی کے اثرات بدستور خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں افغانستان سے دہشتگردی ہوتی ہے ،شیخ وقاص اکرم کا اعتراف، سہیل آفریدی کا بیانیہ مسترد

انہوں نے کہا کہ ’فی الوقت وسطی ایشیا کا خطہ مجموعی طور پر مستحکم ہے، تاہم یہ اب بھی دہشتگرد خطرات کے پھیلاؤ سے شدید متاثر ہے‘ اور شام، افغانستان اور پاکستان میں حالیہ حملوں کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا۔

پاکستان کے دیرینہ تحفظات کو اجاگر کرتے ہوئے چینی سفیر نے کابل کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ہمیں افغانستان کے ساتھ روابط اور تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے اور غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی واپسی کو مشترکہ طور پر روکا جا سکے‘۔

سن لی نے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا ’دہشتگردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ کے 2030 ایجنڈا برائے پائیدار ترقی پر تیزی سے عملدرآمد ناگزیر ہے‘۔

اقوامِ متحدہ کے تحفظات

اس سے ایک روز قبل نیویارک میں بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغانستان کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے 4 اہم اہداف کے عزم کو دہرایا، تاہم طالبان کی جانب سے شمولیت، انسانی حقوق اور علاقائی سلامتی پر پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انتونیو گوتریس نے کہا  کہ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان ادارے حقیقی معنوں میں جامع ہوں، تمام نسلی گروہوں اور معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو، کیونکہ یہی امن کے استحکام کے لیے بنیادی شرط ہے‘۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے خواتین کے کام کرنے پر عائد پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ کی خواتین فیلڈ میں کام کر سکتی ہیں، مگر ہیڈکوارٹرز میں کام کی اجازت نہیں، جسے انہوں نے ’انتہائی مایوس کن‘ قرار دیا۔

مزید پڑھیں:ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں دہشتگردی کر رہی ہے، امریکی جریدہ

سلامتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خطرے کو اجاگر کیا، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ ہم خاص طور پر پاکستانی طالبان اور انہیں ملنے والی ممکنہ حمایت پر شدید تشویش رکھتے ہیں‘۔

انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کچھ پیش رفت کو تسلیم کیا، تاہم دیگر شعبوں میں بہتری نہ آنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باقی 3 پہلوؤں پر ہمیں شدید مایوسی ہے کیونکہ ہماری جائز تشویش کے مطابق ضروری پیش رفت نظر نہیں آ رہی‘۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکام کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان سے سرحد پار دراندازی میں اضافہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوبارہ منظم ہونے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہوں نے پاکستان کے اندر حملوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ ان پر افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ کابل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ علاقائی اور عالمی سلامتی کا براہِ راست تعلق افغانستان کے استحکام سے ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *