آبنائے ہرمز میں جاری بحری ناکہ بندی اور امریکی مداخلت نے عالمی اسٹرٹیجک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت کو بحال کرے، جبکہ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ناکہ بندی کے نتیجے میں اب چین بھی ایرانی تیل حاصل نہیں کر سکے گا۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت کی بحالی پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے ایران کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے بیجنگ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور سفارتی کوششوں میں تعاون کی پیشکش کی۔ دوسری جانب، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ امریکا کی ’اشتعال انگیز‘ کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور ان کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ناکہ بندی کے دوسرے دن بھی صورتحال پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی بحری جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہو سکا اور نہ ہی باہر نکل سکا۔
سینٹ کام نے تصدیق کی کہ 9 بحری جہازوں نے امریکی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ اس ناکہ بندی کا مقصد تہران پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے، جس کی زد میں چین کو ہونے والی تیل کی سپلائی بھی آئے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے بحری تصادم کے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
چین، جو کہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس وقت ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں ہے۔ ایک طرف وہ ایران کا سٹریٹجک پارٹنر ہے اور اس کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے، تو دوسری طرف عالمی تجارتی راستوں کی بندش اس کی اپنی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
امریکا کی جانب سے ’ناکہ بندی‘ کا یہ دوسرا دن دراصل ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس میں چین کو بھی ایک فریق کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ تہران کو تنہا کیا جا سکے۔