بلوچستان میں بڑی کارروائیاں، 14 دہشتگرد ہلاک، ڈی آئی خان میں بھی حملہ ناکام، سیکیورٹی ہائی الرٹ

بلوچستان میں بڑی کارروائیاں، 14 دہشتگرد ہلاک، ڈی آئی خان میں بھی حملہ ناکام، سیکیورٹی ہائی الرٹ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع بارکھان میں محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی)  نے خفیہ اطلاعات پر 2 بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 14 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔کارروائیاں منظم حکمت عملی کے تحت کی گئیں جن میں جدید اسلحہ استعمال کیا گیا اور حساس مقامات کو ممکنہ بڑے حملوں سے بچا لیا گیا۔

ترجمان کاؤنٹر ٹیرازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ جیسے ہی اہلکاروں نے مشتبہ ٹھکانے کو گھیرے میں لیا تو دہشت گردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ مقابلے کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا جبکہ دہشت گردوں کے قبضے سے خودکار ہتھیار، دستی بم اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:انسداد دہشتگردی اور باہمی تجارت میں پاکستان کے کلیدی کردارکی دنیا معترف

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد کالعدم تنظیم سے وابستہ تھے اور وہ سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب بارکھان کے علاقے رکھنی میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد ایک محفوظ ٹھکانے پر موجود تھے جہاں چھپ کر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ سی ٹی ڈی کی ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر پیش قدمی کی تو فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ شدید مقابلے کے بعد 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد قبضے میں لے لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا مواد بڑے پیمانے پر تخریب کاری کے لیے استعمال ہونا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی

ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ رہی جہاں تھانہ یارک پر نامعلوم شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

حکام کے مطابق فرار ہوتے عناصر نے قریبی کسٹم چیک پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا جہاں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ڈی آئی جی سید انور حسین کا کہنا ہے کہ شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ اعجاز شہید پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

یاد رہے کہ اسی سرکل میں چند روز قبل ڈی ایس پی اور ایس ایچ او پر بھی حملہ ہوا تھا جس میں ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *