پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب فورسز علاقے میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر رہی تھیں، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق خودکش حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز کے اگلے دستے نے بروقت روک لیا، جس سے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی بڑی سازش ناکام بنا دی گئی۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے دوران دہشتگردوں نے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز (عمر 43 سال، ضلع مانسہرہ کے رہائشی)، جو اپنے جوانوں کی قیادت فرنٹ سے کر رہے تھے، جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کے ہمراہ سپاہی کرامت شاہ (عمر 28 سال، ضلع پشاور کے رہائشی) بھی شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو مقدس مہینے رمضان کی حرمت کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت ایک بار پھر اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
فوجی ترجمان کے مطابق پاکستان ان گھناؤنے اور بزدلانہ حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھے گا اور ان کے خلاف جہاں بھی ہوں، مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کیے گئے انسداد دہشتگردی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں وطن کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور ملک کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے عہد کی تجدید ہیں۔