قطر نے ہنرمند پاکستانیوں، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ سطحی ایگزیکٹوز کے لیے خصوصی طویل مدتی رہائشی پروگرام متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد عالمی ٹیلنٹ کو راغب کرنا اور معیشت کو توانائی پر انحصار سے نکال کر جدت اور علم پر مبنی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ویب سمٹ قطر 2026 کے موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سرمایہ کاری کے فروغ اور جدید کاروباری ماحول کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
نئے پروگرام کے تحت اہل امیدواروں کو پانچ سالہ قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا جس میں توسیع کے بعد مدت 10 سال تک ہو سکتی ہے۔ اس دوران وہ قطر میں قیام، ملازمت، کاروبار کے قیام یا توسیع اور مقامی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔
پروگرام میں شریک افراد کو اہل خانہ اور گھریلو عملے کی اسپانسرشپ، کاروباری انکیوبیٹرز اور ایکسلریٹرز تک رسائی، ماہرین کی رہنمائی، ضابطہ جاتی امور میں سہولت اور مختلف شراکت داری پروگرامز کے ذریعے رہائشی اخراجات میں ممکنہ کمی جیسی مراعات حاصل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای کی طرف سے پاکستانی طلبعلموں کیلئے بڑی پیشکش، فل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان
حکام کے مطابق یہ اسکیم دو بنیادی زمروں پر مشتمل ہے جن میں کاروباری افراد اور سینئر ایگزیکٹوز شامل ہیں۔ کاروباری افراد کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ قطر کے ترجیحی شعبوں جیسے ٹیکنالوجی یا فن ٹیک میں جدت پر مبنی منصوبہ پیش کریں اور منظور شدہ اداروں مثلاً Qatar Science and Technology Park، Qatar Fintech Hub یا Qatar Development Bank سے توثیق حاصل کریں۔ اس کے علاوہ مالی استحکام کا ثبوت اور کاروبار میں فعال کردار بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سینئر ایگزیکٹوز کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کسی مستند کمپنی یا مالیاتی ادارے کی جانب سے نامزد ہوں، ان کے پاس کم از کم پانچ سالہ اعلیٰ انتظامی تجربہ ہو اور مقررہ کم از کم ماہانہ تنخواہ کی حد پوری کرتے ہوں۔ متعلقہ امیدوار کے پاس قطر میں باقاعدہ ملازمت کا معاہدہ ہونا بھی ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں پاکستانیوں کیلئے مفت تعلیم حاصل کرنے کا سنہری موقع،درخواستیں طلب، انتہائی آسان طریقہ جانیے

