امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے طاقتور برفانی طوفان نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا، لاکھوں افراد متاثر جبکہ متعدد ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمال مشرقی امریکا شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ افراد کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے پیش نظر نیویارک، نیوجرسی، ڈیلاویئر، رہوڈ آئی لینڈ، کنیٹی کٹ اور میساچوسٹس سمیت 6 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث فضائی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ملک بھر میں 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ جبکہ ہزاروں تاخیر کا شکار ہیں۔ فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ نے نیویارک کے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ اسٹاپ کی وارننگ جاری کرتے ہوئے مسافروں کو پیشگی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیویارک سٹی انتظامیہ نے شہر میں رات 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نیویارک سٹی میں 18 سے 24 انچ اور بعض علاقوں میں 28 انچ تک برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ 70 میل فی گھنٹہ تک رفتار کی ہوائیں چلنے کی پیشگوئی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ طاقتور “بم سائیکلون” I-95 کوریڈور کے بڑے حصے کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے ٹریفک کا نظام معطل اور روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، گھروں میں رہنے اور ہنگامی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق طوفان کے باعث نیویارک، بوسٹن، نیو جرسی، فلاڈیلفیا، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی کے ایئرپورٹس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ متعلقہ ادارے صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ریسکیو اور ہنگامی عملہ الرٹ کر دیا گیا ہے۔