ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں تاہم ایران امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بات چیت میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا جس سے مثبت پیشرفت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امریکی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی حل اب بھی میز پر موجود ہے، اگر واشنگٹن اپنے خدشات کو دور کرنا چاہتا ہے تو سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
عراقچی نے مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے تحت جمعرات کو جنیوا میں امریکی مندوب سٹیو وٹکوف سے اپنی ممکنہ ملاقات کا بھی بتایا، ان کاکہنا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے جنیوا میں ملاقات متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا، تاہم سفارتی حل کے امکانات بھی موجود ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے یا انتہائی برے حالات کا سامنا کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، یہ سب کچھ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمک کی موجودگی میں ہو رہا ہے جس سے وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔