سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ حکومت کی جانب سے مذاکرات کیے گئے جن میں متعدد مطالبات پر پیش رفت اور کچھ پر اتفاق بھی ہوا، تاہم مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملے پر ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کئی نکات پر پیش رفت ہوئی ہے اور بعض مطالبات تسلیم بھی کیے گئے،وزیراعظم پاکستان کی ہدایت تھی کہ عوامی فلاح سے متعلق مطالبات پر غور کیا جائے اور جہاں ممکن ہو انہیں تسلیم کیا جائے۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کا ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں ختم کی جائیں ان نشستوں سے متعلق ان کا مؤقف تھا کہ ان پر منتخب ہونے والے اراکین کو نہ تو وزارتی عہدے دیے جائیں اور نہ ہی سرکاری فنڈز یا ملازمتوں میں کوئی کوٹہ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا جائے تو آزاد کشمیر سے مہاجرین کی نشستیں ختم کردیں تو کشمیریوں کی اصل تحریک ختم ہوجائے گی جو ایک حساس اور اہم آئینی و سیاسی مسئلہ ہے۔
رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے فائرنگ کی یہ عناصر لشکر کشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے صورتحال کو انتہائی حساس اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ سرحد پار بھارت کے بعض چینل اس صورتحال کو آپریشن سندور ٹرکا نام دے رہے ہیں
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر مجموعی طور پر 37 مطالبات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور 30 مئی کو ان تمام نکات پر آزاد کشمیر حکومت کو آگاہ بھی کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکشن کمیٹی کو اس بات کا علم تھا کہ چار اگست سے پہلے انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں ان کا مقصد یہ تھا کہ انتخابی عمل کو متاثر کیا جائے، تاہم حکومت نے سیاسی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔