وفاقی حکومت نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کی نئی راہیں کھولنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ منصوبہ دو ہزار تیس تک مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور اس کا بنیادی مقصد جدید مصنوعی ذہانت کے نظام تک سستی اور وسیع رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا آغاز کرے گی۔ اس کے لیے ایک خصوصی پروگرام کے تحت ملک میں جدید کمپیوٹنگ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ تحقیق، ترقی اور صنعتی استعمال کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں :گوگل نے جدید اوپن اے آئی ماڈل جیما 4 متعارف کروا دیا
منصوبے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کو شامل کیا جائے گا تاکہ ملک میں ایک مضبوط ٹیکنالوجی ایکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے جدید کمپیوٹنگ پاور اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس فراہم کیے جائیں گے جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے تجزیے، مشین لرننگ اور جدید تحقیق میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ کے ذریعے اس منصوبے کو عملی شکل دی جائے گی جس کے تحت مختلف صنعتوں، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سطح پر جدت کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان محققین اور ماہرین کو بھی نئے مواقع میسر آئیں گے۔
سرمایہ کاری سے ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور کاروباری اداروں کو جدید حل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

