جنوبی وزیرستان میں سونا نکل آیا

جنوبی وزیرستان میں سونا نکل آیا

جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل کانی گرم میں واقع ’تریخ کونڑ نالے‘ میں سونے کے ذرات کی موجودگی کی خبر پھیلنے کے بعد مقامی آبادی کی بڑی تعداد سونا نکالنے کے لیے نالے پر پہنچ گئی ہے۔

اس ’گولڈ رش‘ نے جہاں علاقے میں ہیجان پیدا کر دیا ہے، وہیں سونے کی صفائی کے لیے پارے (مرکری) کے خطرناک استعمال نے سنگین ماحولیاتی بحران کو جنم دیا ہے۔

مقامی عمائدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نالے سے ریت جمع کر کے اس میں سے سونے کے ذرات الگ کرنے کے لیے پارے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے؟  اٹک کی مٹی سونا اگلنے لگی، رواں ماہ ذخائر کی بین الاقوامی نیلامی، نیسپاک سے رپورٹ طلب

اس عمل کے نتیجے میں کانی گرم کے نالے کا سارا پانی آلودہ ہو چکا ہے، جو نہ صرف پینے کے لیے غیر محفوظ ہے بلکہ آبی حیات اور مویشیوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق پارے کی آمیزش والا پانی انسانی اعصابی نظام کو مفلوج کرنے اور گردوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر، عصمت اللہ نے فوری نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تریخ کونڑ نالے میں ہونے والی ان غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے اور پارے کے استعمال سے پھیلنے والی آلودگی کا سدِباب کیا جائے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معدنیات کی تلاش کا ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار ہے اور کسی کو بھی عوامی صحت اور ماحول کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان کا علاقہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے، تاہم یہاں اکثر و بیشتر مقامی سطح پر غیر سائنسی طریقوں سے معدنیات نکالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں قواعد و ضوابط غیر موثر، پالیسیز کاغذات تک محدود ہو گئیں

‘آرٹیسنل گولڈ مائننگ’ میں پارے کا استعمال عالمی سطح پر ممنوع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایک طاقتور اعصابی زہر ہے۔ جب پارے کو سونے کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو یہ ایک مغلوب بنا دیتا ہے، جسے بعد میں جلا کر سونا الگ کیا جاتا ہے، اس عمل سے پیدا ہونے والے بخارات اور نالوں میں بہایا جانے والا فضلہ صدیوں تک ماحول کو زہریلا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کانی گرم جیسے دشوار گزار علاقے میں اس طرح کی سرگرمیوں کا پھیلنا وہاں کے ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *