پاکستان کے معروف صحافی نجم سیٹھی نے حالیہ ٹی وی شو میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے اہم کردار پر گفتگو کی۔ نیوز ٹوڈے/انڈیا ٹوڈے کے شو میں حصہ لیتے ہوئے، نجم سیٹھی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے آپ کو عالمی سطح پر ایک اہم ثالث کے طور پر منوایا ہے۔
شو کے دوران میزبان راجدیپ سردیسائی نے سوال کیا کہ پاکستان کی قیادت کون کر رہا ہے؟ کیا وزیرِ اعظم شہباز شریف ہیں یا وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار یا پھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہے جو اہم فیصلے کر رہی ہے؟
نجم سیٹھی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم اور ڈپٹی وزیرِ اعظم کے درمیان ایک بہت ہی اچھی ہم آہنگی ہے، اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں فوجی ادارہ بھی اس بات پر متفق ہے کہ دونوں مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں ہے اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر کام کر رہی ہے۔
راجدیپ سردیسائی نے اس پر سوال کیا کہ کیا پاکستان اس مذاکرات سے مالی امداد حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے، خاص طور پر تیل کے حوالے سے، کیونکہ اس کا ایک بڑا حصہ ہرمز کی تنگ گزرگاہ کے ذریعے آتا ہے۔
نجم سیٹھی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ چاہے مذاکرات کامیاب ہوں یا نہیں، پاکستان نے اپنے آپ کو ایک اہم ثالث کے طور پر تسلیم کروا لیا ہے۔ ان کے مطابق، دنیا کے تمام بڑے رہنما پاکستان کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور اسے اس کردار کو جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اس دوران سردیسائی نے پاکستان کے بارے میں بھارت کے تحفظات کو بھی اٹھایا، خاص طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان اب دہشت گردی کو برآمد نہیں کرتا اور دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ جب سردیسائی نے ماضی میں پاکستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کا ذکر کیا، تو نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ ماضی کی باتیں ہیں اور اب کی حکومت پاکستان پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک پوزیشن اور عالمی تعلقات میں اپنی اہمیت کو تسلیم کروا لیا ہے۔
آخرکار، راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس مذاکرات کا نتیجہ کامیاب ہو تاکہ مغربی ایشیا میں جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ دنیا کی خواہش ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔