افغانستان میں 25 سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، محسن نقوی کا عالمی برادری کو انتباہ

افغانستان میں 25 سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، محسن نقوی کا عالمی برادری کو انتباہ

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورہ نیویارک کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر الیگزینڈرووچ کولوکولتسیف سے انتہائی اہم ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ، سائبر کرائم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید خطوط پر تربیت کے لیے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا۔

بات چیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں رہنماؤں نے اپنی متعلقہ وزارتوں کے مابین جلد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرداخلہ محسن نقوی کی سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس سے ملاقات

ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک مشترکہ پولیس مشقیں منعقد کریں گے تاکہ جدید خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو نکھارا جا سکے۔

افغانستان میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس پر تشویش

روسی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین پر 25 سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، جو نہ صرف پاکستان اور روس بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

وزیر داخلہ نے زور دیا کہ ان دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ایک مربوط اور ٹھوس عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا۔

چینی شہریوں کا تحفظ اور پاک چین سیکیورٹی تعاون

وزیر داخلہ محسن نقوی نے چین کے وزیر مملکت برائے عوامی سلامتی اور اسپیشل سروس بیورو کے سربراہ لنگ ژی فینگ سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سرحدوں کی نگرانی (بارڈر مینجمنٹ)، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسداد منشیات پر بات چیت ہوئی۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینئرز اور شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، جس کے لیے ایک خصوصی ’اسپیشل پروٹیکشن پولیس فورس‘ دن رات فرائض سرانجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزیرداخلہ داخلہ محسن نقوی سرکاری دورے پرسعودی عرب پہنچ گئے  

انہوں نے دہشتگردی کی مالی معاونت (ٹیریر فنانسنگ) کرنے والے ممالک کے خلاف سخت عالمی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ چینی وزیر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سیکیورٹی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سرحدوں سے ماورا خطرات اور جدید ٹیکنالوجی کا چیلنج

اقوام متحدہ کی پولیس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دنیا کو خبردار کیا کہ منظم جرائم، سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے چیلنجز اب سرحدوں کے محتاج نہیں رہے۔ کوئی بھی ملک تنہا ان خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشتگرد جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، اس لیے دنیا بھر کی پولیس فورسز کو بھی جدید ٹیکنالوجی، اختراعی صلاحیتوں اور بہترین تربیت سے آراستہ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

پاکستان دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوج اور پولیس دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل رہا ہے، جہاں پاکستانی جوانوں نے عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

حالیہ چند برسوں میں خطے میں جیو پولیٹیکل تبدیلیاں آئی ہیں، بالخصوص افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد دہشتگردی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے نمائندے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، محسن نقوی تہران پہنچ گئے

پاکستان کو داخلی طور پر دہشتگردی کا سامنا ہے، جس کے تانے بانے پڑوسی ملک سے ملتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہے، جس کے لیے پاکستان نے فول پروف انتظامات کیے ہیں۔

نیویارک میں ہونے والی یہ سمٹ پاکستان کو اپنا موقف عالمی سطح پر پیش کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

محسن نقوی کا دورہ نیویارک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت روس اور چین کے وزرائے داخلہ سے ملاقاتیں پاکستان کی خارجہ اور داخلی سیکیورٹی پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا سکتی ہیں۔

سفارتی کامیابی

 انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف یہ ثابت کرتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو اب بھی ایک اہم سفارتی پُل تسلیم کیا جاتا ہے۔

روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون

روس کے ساتھ مشترکہ پولیس مشقوں اور ایم او یو پر اتفاق ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو متنوع بنا رہا ہے اور بلاک سیاست سے نکل کر روس کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے۔

افغانستان پر عالمی دباؤ

افغانستان میں 25 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا معاملہ روس اور چین کے سامنے اٹھا کر پاکستان نے ایک سمارٹ کارڈ کھیلا ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک بھی افغانستان کی زمین سے اٹھنے والی دہشت گردی سے خائف ہیں۔

چین کا اعتماد بحال رکھنا

 چینی وزیر کو اسپیشل پروٹیکشن فورس کے بارے میں آگاہ کرنا بیجنگ کے تحفظات کو دور کرنے اور سی پیک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تھا۔

مجموعی طور پر، یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں ہے، بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک جدید اور مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Related Articles