پیٹرول مزید سستا ہوگا، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خوشخبری سنا دی

پیٹرول مزید سستا ہوگا، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خوشخبری سنا دی

وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے اور آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کی خوشخبری سنا دی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہیں، جس کا پورا فائدہ پاکستانی عوام تک منتقل کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک کمی

امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا قیام امن کیلئے کردار نوبل انعام سے بھی بڑا ہے، رانا ثنا اللہ

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس وقت امریکی خام تیل (ڈبلیوٹی آئی) کی قیمت کم ہوکر 69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) بھی سستا ہونے کے بعد 72 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی گر کر 66 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ چکی ہے۔

حکومتی حکمتِ عملی

رانا ثنا اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ ایران اور اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہوا تھا اور ملک میں تیل کا اسٹاک برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو بحرانی کیفیت میں زیادہ قیمتوں پر بھی تیل خریدنا پڑا۔

 انہوں نے واضح کیا کہ اسی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے ہفتہ وار بنیادوں پر ہر جمعے کو پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا کہ آئل کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا اور کہا کہ اس وقت یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ کمپنیوں نے اربوں روپے کا منافع کما لیا ہے جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو وارننگ

وزیراعظم کے مشیر نے آئل کمپنیوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں آج تھوڑا فائدہ ہوتا ہے تو کل کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں:بجٹ میں عوام کو کیا ریلیف ملنے جا رہا ہے؟، رانا ثنا اللہ نے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

اگر ماضی میں کمپنیوں کو پیٹرولیم قیمتوں پر فائدہ ہوا تھا تو اب قیمتیں گرنے کی صورت میں انہیں وہ منافع عوام کو تھوڑا واپس بھی کرنا ہوگا۔

ملکی نظام ایک سسٹم کے تحت کام کرتا ہے اور اگر اسے ڈسٹرب کیا گیا تو مشکلات پیش آئیں گی۔ حکومت اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ کمپنیوں کو کتنا فائدہ پہنچا اور اگر اب مارکیٹ کی صورتحال کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا ہے تو اٹھانا چاہیے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر کمپنیوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہوا تو حکومت ان کا بھی خیال رکھے گی۔

مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا اعلان

رانا ثنا اللہ نے دوٹوک الفاظ میں پیٹرولیم مافیا اور کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے دوران اگر کوئی مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، یا سپلائی کو روکا گیا، تو ایسی کمپنیوں اور عناصر سے حکومت انتہائی سختی سے نمٹے گی اور کسی کو عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کی ناکہ بندی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر بلند ہو گئی تھیں۔

پاکستان نے اس بحران سے نمٹنے اور ملک میں پٹرول کا قحط ٹالنے کے لیے 15 روزہ قیمتوں کے روایتی طریقہ کار کو عارضی طور پر بدل کر ہفتہ وار (ہر جمعے کو) قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آئل کمپنیوں کا کیش فلو برقرار رہے اور سپلائی چین متاثر نہ ہو۔

اب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی بریک تھرو اور معاہدے کے بعد خلیج میں بحری راستے کھل گئے ہیں، جس سے تیل کی ترسیل بحال اور قیمتیں نارمل ہو رہی ہیں۔

Related Articles