پہلی بار لیبارٹری میں مصنوعی انڈے کے ذریعے چوزہ تیار، سائنس کی دنیا میں تہلکہ

پہلی بار لیبارٹری میں مصنوعی انڈے کے ذریعے چوزہ تیار، سائنس کی دنیا میں تہلکہ

سائنس کے میدان میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے پہلی بار مصنوعی انڈے کے ذریعے چوزے کی پیدائش کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کامیابی کو مستقبل میں معدوم ہو جانے والے پرندوں کی نسلیں دوبارہ دنیا میں لانے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی کمپنی “کولوسل بایوسائنسز” کے مطابق ایک خاص کیپسول نما مصنوعی انڈہ تیار کیا گیا جس کے اندر چوزے کی نشوونما کا مکمل عمل ممکن بنایا گیا۔ اس شفاف کیپسول کے ذریعے سائنسدان کئی ہفتوں تک اندر ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے رہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پرندے خواتین کو دیکھ کر جلد اُڑ جاتے ہیں، سائنسدانوں کی نئی تحقیق

کمپنی کی ایک عہدیدار پیج میک نکِل کے مطابق جب چوزے کو اس مصنوعی انڈے سے باہر نکالا گیا تو یہ ایک حیران کن اور تاریخی لمحہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے معدوم پرندے “موآ” کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق موآ پرندہ، جو کبھی نیوزی لینڈ میں پایا جاتا تھا، 1380 سے 1445 کے درمیان معدوم ہو گیا تھا۔ یہ پرندہ غیر معمولی طور پر بڑا تھا اور اس کے انڈے مرغی کے مقابلے میں کئی گنا بڑے ہوتے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :دنیا کا پہلا باقاعدہ رسم الخط کس ملک میں ایجاد ہوا؟نئی تحقیق نے تاریخ بدل دی

کمپنی کے شریک بانی بین لام کا کہنا ہے کہ صرف جینیاتی تحقیق ہی نہیں بلکہ ایسے ماحول کی تیاری بھی ضروری ہے جس میں معدوم پرندوں کی نشوونما ممکن ہو سکے۔ مصنوعی انڈہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق پرندوں کے انڈے بظاہر سادہ نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندر زندگی کی نشوونما کا ایک انتہائی پیچیدہ نظام موجود ہوتا ہےجو آکسیجن، نمی اور گیسوں کے تبادلے کو متوازن رکھتا ہے۔

editor

Related Articles