بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں حکومت نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر والدین کو مالی انعام دیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ریاست میں آبادی کی کم ہوتی شرح مستقبل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اعلان کے مطابق تیسرے بچے کی پیدائش پر والدین کو 30 ہزار بھارتی روپے جبکہ چوتھے بچے کی پیدائش پر 40 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شرح پیدائش کو متوازن سطح پر لانا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بدلتے معاشی حالات، شہری طرزِ زندگی اور کم فیملی سائز کے رجحان کے باعث کئی جوڑے صرف ایک یا دو بچوں پر اکتفا کر رہے ہیں، جس کے طویل المدتی اثرات معیشت اور آبادی کے ڈھانچے پر پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی معاشرے میں شرح پیدائش 2.1 فی عورت سے کم رہ جائے تو مستقبل میں آبادی کا توازن بگڑ سکتا ہے، جس سے معاشی اور سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
یہ پالیسی بھارت میں آبادی کے بدلتے رجحانات کے تناظر میں ایک اہم اور غیر معمولی قدم قرار دی جا رہی ہے، جس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔