پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں سولر پالیسی اہم موضوع بن گئی، جہاں آئی ایم ایف نے نئے اور پرانے سولر صارفین کیلئے الگ نظام پر تحفظات کا اظہار کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام کا بتانا ہے کہ سولر پالیسی میں نئے اور پرانے سولر صارفین کو الگ الگ کر دیا گیا ،پرانے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کا نظام برقرار رکھا گیا ہے ۔
حکام کے مطابق پرانے سولر صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل نہیں کیا گیا ،انہیں کراس سبسڈی دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق نئے سولر صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل کر دیا گیا ہے اورنیٹ بلنگ ماڈل انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق ہے، حکام کے مطابق ڈسکوز کی نجکاری پر بریفنگ دی جائے گی ، حکومت نے تین ڈسکوز کی نجکاری کا عمل شروع کر رکھا ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی ری اسٹرکچرنگ کا نظام تیار کر لیا گیا ہے اوربجلی کی پہلی ہول سیل نیلامی 2026 کے وسط میں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور جدید نظام کے نفاذ کے ذریعے مالی بوجھ کم کرنے اور بجلی کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے ان پالیسیوں پر مزید وضاحت اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔