چین میں ایک یانگ چو ڈیم نامی بڑا ہائیڈرو پاور منصوبہ زیر تعمیرہے اور اسے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
یہ ڈیم تبت کے سطح مرتفع پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور مکمل ہونے پر اس کی اونچائی تقریباً 180 میٹر (590 فٹ) ہوگی۔ منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں مصنوعی ذہانت، خودکار روبوٹس اور جدید3ڈی(3D) پرنٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اس پورے تعمیراتی عمل کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ سائٹ پر روایتی انسانی مزدور موجود نہیں، بلکہ خودکار ایکسکیویٹرز، ٹرک اور رولرز ایک مرکزی کمپیوٹر سسٹم کے تحت ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ ڈیم ہر سال تقریباً 5 ارب کلو واٹ آورز صاف بجلی پیدا کرے گا، جو براہِ راست قومی گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ اس سے چین کے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کو تقویت ملنے اور کاربن اخراج میں کمی کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مشکل اور خطرناک ماحول میں انسانی غلطیوں اور حفاظتی خطرات کو کم کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ ماڈل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں سڑکوں، پلوں اور دیگر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعمیر بھی اسی خودکار طریقے سے ممکن ہو سکتی ہے، جو انجینئرنگ کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔