گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے سلسلے میں وادیوں اور پہاڑوں کے درمیان سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین اور صفِ اول کی قیادت اس وقت خطے میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جس کے باعث انتخابی مہم میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق اسمبلی کی نشستوں پر پولنگ 7 جون کو ہوگی، جس کے لیے ووٹرز کو متحرک کرنے اور اپنی حمایت یقینی بنانے کی کوششیں اب اپنے حتمی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انتخابی میدان کو گرمانے کے لیے خود کمان سنبھال لی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا انتہائی اہم دورہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن، مسلم لیگ نے ٹکٹ ہولڈرز کا اعلان کر دیا
دونوں مرکزی رہنما ہنزہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے، جہاں وہ پیپلز پارٹی کے منشور اور خطے کی ترقی کے وژن کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، بلاول بھٹو زرداری کے شیڈول میں گلگت کے اندر پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز سے خصوصی ملاقاتیں بھی شامل ہیں، جن میں انتخابی حکمت عملی اور پولنگ ڈے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی میدان میں موجود ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اس وقت سکردو اور دیگر قریبی اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کر کے تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں بلکہ مختلف مقامات پر کارکنان کے اجتماعات سے خطاب کر کے ان کا حوصلہ بھی بڑھا رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی خطے میں اپنی پوری سیاسی طاقت جھونک دی ہے۔ ن لیگ کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ گلگت بلتستان کے مختلف حصوں میں عوامی رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگی رہنما مجموعی طور پر 4 مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے اور مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کریں گے۔ اسی اثنا میں وفاقی وزیر انجینیئر امیر مقام بھی گلگت میں ڈیرے جمائے ہوئے ہیں، جہاں وہ مختلف مقامی سیاسی رہنماؤں اور وفود سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ انتخابی اتحاد اور جوڑ توڑ کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ان انتخابات کی اہمیت کیا ہے؟
گلگت بلتستان اسمبلی کی یہ انتخابی مہم اور آنے والے انتخابات خطے کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، گلگت بلتستان اسمبلی نے اپنی 5 سالہ آئینی مدت 24 نومبر 2025 کو مکمل کی تھی، جس کے بعد نگران حکومت قائم کی گئی تھی۔
موسم کی وجہ سے تاخیر

