پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ نے کہا ہے کہ ڈراموں میں کامیابی اور مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود ان کی خواہش ہمیشہ ایک فلم اسٹار بننے کی رہی ہے۔
اپنی نئی فلم ’’زومبیڈ‘‘کے حوالے سے ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے فہد مصطفیٰ نے بتایا کہ وہ ماضی میں فلم سازوں کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے جایا کرتے تھے، جہاں لوگ انہیں دیکھ کر ’’فلم اسٹار فہد مصطفیٰ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ دل ہی دل میں سوچتے تھے کہ وہ صرف فہد مصطفیٰ ہیں، تاہم انہیں یہ سن کر کبھی برا نہیں لگا کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ ایک دن انہیں واقعی فلم اسٹار کے طور پر پہچانا جائے۔
فہد مصطفیٰ نے شوبز انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے روایتی فاصلے کم کر دیے ہیں اور اب فنکاروں اور مداحوں کے درمیان براہِ راست رابطہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے کیریئر میں ذاتی طور پر کبھی غیر منصفانہ سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ انڈسٹری میں اس حوالے سے مختلف باتیں ضرور سننے کو ملتی رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب شوبز انڈسٹری میں لابی ازم پہلے جیسا نہیں رہا اور حالات کافی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں۔فہد مصطفیٰ نے فلم اور ڈرامے کے درمیان فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فلموں میں مالی نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ ڈرامے کی ریٹنگ چاہے جتنی بھی ہو، فنکار کی معاوضے پر اس کا خاص اثر نہیں پڑتا۔
ان کے مطابق اگر کوئی فلم ناکام ہو جائے تو پوری انڈسٹری کو اس کا علم ہو جاتا ہے، لیکن اگر کوئی ڈرامہ توقعات پر پورا نہ اترے تو لوگ جلد ہی اسے بھول کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اپنی نئی فلم ’’زومبیڈ‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فہد مصطفیٰ نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ زومبی طرز کی فلم میں کام کریں گے، کیونکہ پاکستان میں اس نوعیت کی فلمیں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ تاہم بعض اوقات ایسے خیالات جو ابتدا میں غیر معمولی لگتے ہیں، عملی شکل اختیار کرنے کے بعد انتہائی دلچسپ اور پرجوش ثابت ہوتے ہیں۔