امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن، مالیاتی فراڈ انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن اور بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورکس امریکی معیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں جسے روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق نئے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد امریکی محکمہ خزانہ کی نگرانی میں کیا جائے گا۔ اس حکمنامے کا مقصد بینکنگ اور مالیاتی نظام کو انسانی اسمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور جرائم پیشہ گروہوں کے استعمال سے محفوظ بنانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی صرف ان افراد کو حاصل ہونی چاہیے جو قانونی طور پر امریکا میں مقیم ہیں یا قانون کے مطابق کاروباری سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہوں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق حکام ان اکاؤنٹس کی نشاندہی کریں گے جن میں غیر قانونی تارکین وطن کی فلاحی رقوم یا مشتبہ مالی لین دین موجود ہے۔ ایسی رقوم ضبط کر کے امریکی ٹیکس دہندگان کے مفاد میں استعمال کی جائیں گی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابق صدر جو بائیڈن کی امیگریشن پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گزشتہ انتظامیہ کے سرحدی اقدامات نے غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ کیا۔ ان کے بقول نیا ایگزیکٹو آرڈر بائیڈن دور کی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں تبدیل کرنے کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف احتجاج کرنے والے گروپوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اپنی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہ اقدام 2026 کے سیاسی ماحول میں امیگریشن اور قومی سلامتی کے معاملات کو ایک مرتبہ پھر امریکی سیاست کے مرکزی موضوعات میں شامل کر سکتا ہے جبکہ اس کے اثرات بینکنگ سیکٹر امیگریشن نظام اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔