وفاقی حکومت نے عوام، طالب علموں اور کاروباری برادری کے شدید دباؤ کے بعد مالی سال 27-2026 کے آئندہ وفاقی بجٹ میں متعدد شعبوں کو بھاری ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے گرین انرجی (شمسی توانائی)، تعلیمی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ (اسٹاک ایکسچینج) پر مجوزہ ٹیکس اقدامات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ان شعبوں پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ کی تیاری کے دوران سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی جو سخت تجویز زیرِ غور تھی، اسے عوامی ردِعمل اور متبادل توانائی کے فروغ کے پیشِ نظر مکمل طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔
اسی طرح مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک اور بڑی راحت کے تحت کاپیوں، پنسلوں اور دیگر اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی آئندہ بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ موجودہ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا، جس سے کیپیٹل مارکیٹ میں استحکام متوقع ہے۔
تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کے لیے ممکنہ ریلیف
بجٹ 27-2026 کے سے متعلق میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٓبجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس سے اعلیٰ آمدن والے پیشہ ور افراد کا ٹیکس بوجھ کم ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز بھی حتمی غور کے مراحل میں ہے۔ صنعتی شعبے کو متحرک کرنے کے لیے، برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت 1 فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ تقریر کے دوران برآمدی شعبے کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کر سکتی ہے۔
1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن
واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو سہل ‘فائنل ٹیکس رجیم’ سے نکال کر پیچیدہ ‘نارمل ٹیکس رجیم’ میں منتقل کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس لاگو کر دیا گیا تھا (جس میں 1 فیصد کم از کم ٹیکس اور 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے)۔
اس اقدام پر صنعتی و برآمدی حلقوں نے حکومت کو متبادل تجاویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور عالمی منڈی میں خسارے کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مناسب ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والے صنعت کاروں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں اور آڈٹ کے نام پر ہراساں کیے جانے سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران اور بجلی کے بھاری ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ 2 سالوں میں ملک کے اندر سولر پینلز کی درآمد اور تنصیب میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام صارفین اور چھوٹی صنعتوں نے گرڈ کی مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر سولر کا رخ کیا ہے۔
ایسے میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی افواہوں نے مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی اور سولر کی قیمتیں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں۔
اسٹیشنری پر ٹیکس
اسٹیشنری پر ٹیکس کا معاملہ بھی حساس تھا کیونکہ کاغذی اشیا کی قیمتیں پہلے ہی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جس سے بچوں کو اسکولوں سے اٹھائے جانے کا رجحان بڑھ رہا تھا۔
دوسری طرف، فنانس ایکٹ 2024 میں ایکسپورٹرز کے لیے ’فائنل ٹیکس رجیم‘ کا خاتمہ ملکی تاریخ کا ایک متنازع معاشی فیصلہ ثابت ہوا تھا۔
ٹیکسٹائل اور دیگر بڑے برآمدی شعبوں کا مؤقف تھا کہ نارمل ٹیکس رجیم میں آنے سے ان کا سرمایہ ایف بی آر کے ریفنڈز سسٹم میں پھنس جاتا ہے، جس سے ان کے پاس خام مال خریدنے کے لیے نقد رقم ختم ہو جاتی ہے اور وہ عالمی منڈی میں بھارت اور بنگلہ دیش کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔
مینوفیکچررز کا ہمیشہ سے یہ گلہ رہا ہے کہ نارمل ٹیکس میں منتقل کرنے کا مقصد ان کی آمدنی پر ٹیکس لگانا نہیں بلکہ ایف بی آر کے فیلڈ افسران کو ان کے کھاتے چیک کرنے اور ہراساں کرنے کا لائسنس دینا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا ایکسپورٹ حجم گر رہا تھا۔