عمران خان کی قسمت اب وفاقی آئینی عدالت کے ہاتھ میں، قانون میں بڑی ترمیم

عمران خان کی قسمت اب وفاقی آئینی عدالت کے ہاتھ میں، قانون میں بڑی ترمیم

قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں کی جانے والی ایک اہم ترمیم کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سمیت تمام نیب مقدمات میں آخری اپیل کا فورم تبدیل کر دیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (ترمیمی) ایکٹ 2026ء کے تحت نیب آرڈیننس میں نئی دفعہ 32A شامل کی گئی ہے جس کے مطابق احتساب عدالتوں سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل اب سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس قانونی تبدیلی کے دور رس اثرات خصوصاً عمران خان کے خلاف زیر سماعت احتساب مقدمات بالخصوص 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس پر مرتب ہوں گے۔

اگر کسی بھی نیب ریفرنس میں ہائی کورٹ احتساب عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کرتی ہے،۔ تو اس کے خلاف آخری قانونی چارہ جوئی وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:اپنے گھر پر اضافی منزل تعمیر کرنے کے لئے 10 لاکھ روپے تک کا بلاسود قرضہ حاصل کریں

نئی شامل کی گئی دفعہ 32A کے مطابق ہائی کورٹ کی جانب سے دفعہ 32 کے تحت سنائے گئے فیصلے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی شخص یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل احتساب فیصلے کے 30 روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کر سکے گا۔

یہ ترمیم ملک کے عدالتی نظام میں حالیہ آئینی اصلاحات کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ احتساب مقدمات میں اپیل کا اختیار سپریم کورٹ سے منتقل ہو کر وفاقی آئینی عدالت کو دیا گیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس ترمیم پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی خاص طور پر عمران خان کے مقدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے کیونکہ ان کے خلاف جاری نیب کیسز نہ صرف ان کی قانونی حیثیت بلکہ ان کے سیاسی مستقبل پر بھی براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پارٹی کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس عمران خان کے خلاف سب سے اہم احتساب مقدمہ تصور کیا جاتا ہے جس کا حتمی فیصلہ ملکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے احتساب قوانین جرائم کی نوعیت یا سزاؤں سے متعلق بنیادی قانونی اصول تبدیل نہیں ہوئے بلکہ صرف اپیل کا آخری فورم تبدیل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق مقدمات کی سماعت شواہد اور قانونی نکات بدستور نیب قوانین کے تحت ہی طے ہوں گے تاہم آخری فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔

editor

Related Articles