ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا الرٹ، پنجاب میں ایمرجنسی نافذ

ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا الرٹ، پنجاب میں ایمرجنسی نافذ

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بیشتر حصوں میں شدید بارشوں، فلیش فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور تباہ کن ہواؤں کی وارننگ جاری کر دی ہے، جس کے بعد پنجاب حکومت نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

بحیرہ عرب سے آنے والی نم آلود ہوائیں اور مغربی موسمیاتی نظام ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب کے کئی اضلاع میں پیر کو شدید ترین بارشوں کا امکان ظاہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خبردار ، محکمہ موسمیات کی 26 مئی تک خطر ناک موسمی صورتحال کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے اتوار اور پیر کے روز ملک کے بالائی حصوں میں غیر معمولی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ حکام کے مطابق بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے کمزور اور پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طوفانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔

انتظامیہ نے مری اور گلیات جانے والے سیاحوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے باعث بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب بھر میں ہائی الرٹ اور انتظامات

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں میں صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور سمیت تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہنگامی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔

ریسکیو 1122 واسا اور دیگر بلدیاتی اداروں کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔

صوبائی اور ضلعی کنٹرول رومز صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے ہیوی مشینری پہنچا دی گئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی بارش اور درجہ حرارت

ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پہلے ہی بڑے پیمانے پر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کاکول میں 59 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ حافظ آباد میں 57 ملی میٹر، نارووال میں 41 ملی میٹر اور اسلام آباد کے علاقے سید پور میں 40 ملی میٹر بارش ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:موسم کی تازہ صورتحال سے متعلق محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا

 راولپنڈی، مری، لاہور، سیالکوٹ، گجرات اور شیخوپورہ میں بھی بادل جم کر برسے۔ دوسری جانب، ملک کے جنوبی حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے جہاں تربت 49 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ ملک کا گرم ترین مقام رہا، جبکہ دادو میں 46 اور سبی میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

موسمیاتی تبدیلیاں

پاکستان میں مون سون کا سیزن روایتی طور پر جولائی سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، تاہم حالیہ سالوں میں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے باعث مونسون کے انداز میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔

اب کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ بارشیں ہوتی ہیں، جسے ’کلاؤڈ برسٹ‘ یا شدید ترین سپیل کہا جاتا ہے۔ ماضی قریب، خاص طور پر سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سے، پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب معمولی مغربی سسٹم بھی مون سون کی مرطوب ہواؤں کے ساتھ مل کر شدید تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے قبل از وقت الرٹ جاری کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

موجودہ موسمیاتی صورتحال پاکستان کے لیے بیک وقت دہرے چیلنجز کی عکاس ہے۔ ایک طرف ملک کا شمالی اور وسطی حصہ شدید بارشوں اور سیلابی خطرات کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری طرف جنوبی بلوچستان اور سندھ کے علاقے شدید ترین ہیٹ ویو کی زد میں ہیں، جہاں درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔ یہ شدید تضاد موسمیاتی عدم توازن کی واضع علامت ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں موسم کی بدلتی صورتحال پر محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی

انتظامی لحاظ سے، پنجاب حکومت کی جانب سے واسا، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کرنا ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اصل چیلنج شہروں میں ’اربن فلڈنگ‘ (شہری سیلاب) اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے نمٹنا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں کا نکاسی آب کا نظام (ڈرینج سسٹم) اب بھی اتنی بڑی مقدار میں پانی سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ اگر چند گھنٹوں میں 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہو جائے تو معاشی سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں۔

انتظامیہ کو عارضی اقدامات کے بجائے طویل مڈتی منصوبوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ مونسون کی ان بارشوں کو زحمت کے بجائے پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے رحمت بنایا جا سکے۔

Related Articles