امریکا کے شہر شکاگو میں پیدا ہونے والی سائنسدان سبرینا گونزالیز پاسٹرسکی اپنی غیر معمولی ذہانت اور سائنسی کامیابیوں کے باعث دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکی ہیں۔ کششِ ثقل اور کوانٹم میکینکس جیسے پیچیدہ موضوعات پر ان کی تحقیق کے باعث بعض حلقے انہیں غیر رسمی طور پر ’’اگلا آئن اسٹائن‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔
سبرینا نے صرف 12 سال کی عمر میں ایک کٹ کی مدد سے سنگل انجن طیارہ تیار کرنا شروع کیا، جبکہ 14 برس کی عمر میں وہ خود اس طیارے کو اڑانے میں کامیاب ہوئیں، جس نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو نمایاں کر دیا۔
بعد ازاں انہوں نے امریکی انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کی اور ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر اور بلیو اوریجن میں انٹرن شپ بھی کی۔ 2010 میں انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلے کے لیے درخواست دی، جہاں ابتدا میں انہیں انتظار کی فہرست میں رکھا گیا۔
سبرینا نے صرف3برس میں ایم آئی ٹی سے طبیعیات کی ڈگری مکمل کی اور 5.0 کا مکمل گریڈ پوائنٹ ایوریج حاصل کیا۔ وہ تقریباً دو دہائیوں بعد طبیعیات میں مکمل نمبر حاصل کرنے والی پہلی خاتون طالبہ بنیں۔
بعد ازاں انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اسی دوران انہوں نے اپنے ساتھی محققین کے ساتھ ’’اسپن میموری ایفیکٹ‘‘ پر تحقیق کی، جسے گریویٹیشنل ویوز اور خلاء و زمان کے مطالعے میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔
ان کی تحقیق کو عالمی سائنسی برادری میں بھی پذیرائی ملی۔ معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے بھی اپنی زندگی کے آخری تحقیقی مقالات میں ان کے کام کا حوالہ دیا۔
سبرینا کی علمی صلاحیتوں کے باعث انہیں ناسا، بلیو اوریجن اور دیگر معروف اداروں سے ملازمت کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق براؤن یونیورسٹی نے بھی انہیں اسسٹنٹ پروفیسر کی پیشکش کی، تاہم انہوں نے ملازمت کے بجائے تحقیق کو ترجیح دی۔
2021 میں سبرینا گونزالیز پاسٹرسکی کینیڈا کے پیریمیٹر انسٹیٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے وابستہ ہوئیں، جہاں وہ کم عمر ترین ریسرچ فیکلٹی اراکین میں شامل ہیں۔ یہاں انہوں نے ’’سیلسٹیئل ہولوگرافی انیشی ایٹو‘‘ کے نام سے ایک تحقیقی پروگرام بھی شروع کیا، جو جدید نظری طبیعیات کے اہم منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔