وزیراعظم شہباز اور میاں نواز شریف انتہائی اہم دورے پر قطر روانہ

وزیراعظم شہباز اور میاں نواز شریف انتہائی اہم دورے پر قطر روانہ

پاکستان اور قطر کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد سے روانہ ہونے والے اس وفد کی قیادت وزیراعظم خود کر رہے ہیں، تاہم سیاسی اور سفارتی لحاظ سے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ملائیشیا روانہ، اہم معاہدوں اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ کی توقع

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں اسلامی ممالک کے مابین موجود گہرے اور برادرانہ رشتوں کا مظہر ہے۔ پاکستانی قیادت کا قطر پہنچنے پر شاندار استقبال کیا جائے گا، جس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔

شاہی خاندان سے ملاقات اور تعزیت

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور میاں محمد نواز شریف قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔

اس ملاقات کا بنیادی ایجنڈا قطر کے سابق امیر مرحوم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر قطری شاہی خاندان، حکومت اور وہاں کے عوام سے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرنا ہے۔

پاکستانی قیادت مرحوم امیر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرے گی جنہوں نے پاک قطر تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی۔

اعلیٰ سطحی وفد کی شمولیت

اس دورے کی سب سے خاص بات وفد کی تشکیل ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی موجودگی سفارتی حلقوں میں خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

ان کے علاوہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی وفد کا حصہ ہیں۔ یہ اعلیٰ سطحی نمائندگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

پاک قطر تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور عوامی سطح پر بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی، خاص طور پر ایل این جی امپورٹ کے حوالے سے بڑے معاہدے موجود ہیں جو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قطر میں لاکھوں پاکستانی برسرروزگار ہیں جو ملک کے لیے قیمتی زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ قطری شاہی خاندان نے ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں مالی اور سفارتی مدد کی ہے اور ماضی میں بھی دونوں ممالک کی قیادت نے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بھرپور شرکت کی ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کا دورہ ترکیہ و ایران : کل سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرینگے، ترجمان دفتر خارجہ

سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کا دورِ اقتدار پاک قطر دوستی کے سنہری دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ ایک روزہ دورہ قطر محض ایک تعزیتی دورہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پس پردہ گہرے سیاسی اور معاشی مقاصد بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

وفد میں نواز شریف اور اسحاق ڈار کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعزیت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین مستقبل کی سرمایہ کاری، سی پیک اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پاکستان اس وقت معاشی استحکام کے لیے دوست ممالک کے تعاون کا خواہاں ہے اور قطر جیسے امیر اسلامی ملک کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر روابط برقرار رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

Related Articles