ہالی ووڈ کی مشہور فلم ’جراسک پارک‘ اور آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’دی پیانو‘ سمیت متعدد یادگار کرداروں سے شہرت حاصل کرنے والے نیوزی لینڈ کے معروف اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کے انتقال کی خبر پیر کو ان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان کے ذریعے دی گئی۔ بیان میں بتایا گیا کہ سیم نیل 13 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں انتقال کر گئے۔ اہل خانہ نے ان کی رازداری کا احترام کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں موت کی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم سیم نیل نے کچھ عرصہ قبل ہی بتایا تھا کہ وہ 2022 میں تشخیص ہونے والے اسٹیج تھری اینجیوامیونوبلاسٹک ٹی سیل لیمفوما (خون کے سرطان کی ایک قسم) سے صحت یاب ہو چکے تھے اور ان کا کینسر ختم ہو گیا تھا۔
سیم نیل 1947 میں شمالی آئرلینڈ کے شہر اوما میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نائجل جان ڈرموٹ نیل تھا، تاہم 12 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا نام بدل کر سیم رکھ لیا۔ 1954 میں ان کا خاندان نیوزی لینڈ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اداکاری کو بطور پیشہ اختیار کیا۔
ان کے فلمی کیریئر کا آغاز 1977 میں نیوزی لینڈ کی فلم سلیپنگ ڈاگزسے ہوا، تاہم عالمی شہرت انہیں 1993 میں ریلیز ہونے والی فلموں دی پی یانواور جراسک پارک سے ملی۔ انہوں نے ڈاکٹر ایلن گرانٹ کا کردار ادا کیا، جو بعد میں جراسک پارک 3 اور جراسک ورلڈ ڈومینین میں بھی نظر آئے۔
پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر میں سیم نیل نے 150 سے زائد فلموں اور ٹی وی پروجیکٹس میں کام کیا۔2023 میں شائع ہونے والی اپنی خودنوشت ’’ ڈیڈ آئی ٹیل یو آباوڈ دس‘‘ میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ خون کے سرطان کے علاج کے لیے کیموتھراپی سے گزر رہے تھے، تاہم بیماری کے باوجود اداکاری اور زندگی سے محبت برقرار رکھی۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن اور آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیزی سمیت متعدد رہنماؤں اور فنکاروں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فلمی دنیا کا عظیم ستارہ قرار دیا۔سیم نیل اپنے پیچھے چار بچوں اور چھ پوتے پوتیوں پر مشتمل خاندان چھوڑ گئے ہیں، جبکہ ان کی فلمیں اور یادگار کردار ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔