سینیئر ترین بیوروکریٹ نے اپنی زندگی کا چراغ گل کرقدیا، انتہائی اقدام کی وجہ کیا بنی؟

سینیئر ترین بیوروکریٹ نے اپنی زندگی کا چراغ گل کرقدیا، انتہائی اقدام کی وجہ کیا بنی؟

پشاور میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے میں گریڈ 18 کے سینیئر سرکاری افسر جاوید صنم نے مبینہ طور پر گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ افسر کی رہائش گاہ کے اندر پیش آیا۔ واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب اہلخانہ نے جاوید صنم کی خون میں لت پت لاش دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج کے باعث ٹریفک جام میں دم توڑنے والی بچی کے والد نے خود کشی کرلی

 پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹمارٹم اور قانونی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ فرانزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اور گولیوں کے خول اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاوید صنم صوبائی بیوروکریسی میں ایک انتہائی محنتی اور ایماندار افسر کے طور پر جانے جاتے تھے اور ان دنوں ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز تھے۔

میڈیا رپورٹ میں خاندانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ گزشتہ چند روز سے شدید ذہنی دباؤ اور کام کے بوجھ کا شکار دکھائی دے رہے تھے، تاہم انہوں نے کبھی بھی اپنے خاندانی یا پیشہ ورانہ مسائل کا کھل کر اظہار نہیں کیا۔

خیبر پختونخوا کے انتظامی حلقوں میں اس سے قبل بھی سرکاری افسران پر کام کے شدید دباؤ، سیاسی مداخلت اور تبادلوں کے باعث پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:لاہور پرائیوٹ یونیورسٹی طالبہ کی خود کشی کی کوشش، ابتدائی تحقیقات میں وجہ سامنے آگئی

جاوید صنم کی اچانک موت نے بیوروکریسی کے اندر کام کے ماحول اور افسران کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

اس واقعے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ بیوروکریسی کے اندر بڑھتے ہوئے پوشیدہ ذہنی دباؤ کا ایک خطرناک اشارہ ہے۔

گریڈ 18 کے افسران عام طور پر فیلڈ اور سیکرٹریٹ دونوں سطحوں پر انتہائی اہم اور دباؤ والے ماحول میں کام کرتے ہیں، جہاں انہیں ایک طرف عوامی مسائل حل کرنے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی قیادت کی توقعات پر پورا اترنا ہوتا ہے۔

اگر یہ خودکشی ثابت ہوتی ہے تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام کے اندر افسران کے لیے کوئی ایسا نفسیاتی سپورٹ سسٹم موجود نہیں ہے جہاں وہ اپنے دل کی بات کر سکیں یا دباؤ کو کم کر سکیں۔

مزید پڑھیں:فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی موت خودکشی، حادثہ یا پھر قتل ؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

تاہم پولیس کے لیے یہ کیس ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ انتظامی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کی موت کے پیچھے بعض اوقات ذاتی دشمنی یا دیگر پوشیدہ محرکات بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی حتمی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

Related Articles