مودی سرکارکی انتخابی انجینئرنگ بے نقاب ہوگئی ہے اوراقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
لاکھوں ووٹرز کے نام حذف ہونے کا معاملہ
اقوام متحدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں ووٹرز، خصوصاً اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بھارتی حکومت کو مراسلہ ارسال
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے اقلیتی امور، آزادیٔ اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے نمائندوں نے رواں سال مئی میں بھارتی حکومت کو خط ارسال کیا، جس میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر خدشات ظاہر کیے گئے۔
مسلمان اور اقلیتیں متاثر ہونے کا خدشہ
مراسلے میں کہا گیا کہ ایس آئی آر عمل کے دوران بڑی تعداد میں نام حذف کیے جا رہے ہیں، جس سے مسلمان، بنگالی نژاد افراد اور دیگر اقلیتی گروہوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شفافیت اور اے آئی نظام پر سوالات
اقوام متحدہ کے نمائندوں نے انتخابی فہرستوں کے عمل میں شفافیت کی کمی، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے استعمال، معمولی غلطیوں کی بنیاد پر نام خارج کرنے اور اپیل کے مؤثر نظام کے فقدان پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بھارت کو 60 روز میں جواب دینا ہوگا
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کو مراسلے کا جواب دینے کے لیے 60 روز کی مہلت دی گئی ہے،اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اہل ووٹرز کو غلط طریقے سے انتخابی عمل سے دور کیا جا سکتا ہے۔
نندی گرام میں مسلم ووٹرز کا معاملہ
مراسلے میں مغربی بنگال کے ضلع نندی گرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے ووٹرز میں تقریباً 95 فیصد مسلمان تھے، جبکہ حلقے میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 25 فیصد بتایا گیا ہے۔
حقِ رائے دہی پر عالمی تشویش
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے کہا کہ ووٹ کا حق بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے اور بھارت کو اقلیتوں اور شہری حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔
مودی حکومت سے 7 سوالات کا جواب طلب
مراسلے میں بھارتی حکومت سے 7 سوالات کے جواب طلب کیے گئے ہیں، جن میں خارج کیے گئے ووٹرز کے اعداد و شمار، اپیل کے طریقہ کار اور قانونی اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں۔
مراسلہ عالمی سطح پر جاری ہوگا
اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے مطابق بھارتی حکومت کے جواب یا مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد مراسلہ اور جواب عالمی ادارے کی اسپیشل پروسیجرز کمیونی کیشنز ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔

