امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 ڈالرز یعنی 2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 84.98 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 1.65 ڈالرز یعنی 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.79 ڈالرز فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو مئی 2020ء کے بعد ایک ہی دن میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات ہیں، آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے ، اگر اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ناصرف خام تیل بلکہ دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔