پاکستان سپر لیگ کی معروف فرنچائز لاہور قلندرز نے گیانا میں شیڈول آئندہ گلوبل سپر لیگ کے لیے اپنے حتمی اسکواڈ اور ٹیم مینجمنٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
ٹورنامنٹ کے لیے نیوزی لینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر مائیکل بریسویل کو ٹیم کی کمان سونپی گئی ہے جبکہ آسٹریلیا کے سابق جارح مزاج فاسٹ بولر شان ٹیٹ کو ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔
نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل یہ اسکواڈ 23 جولائی سے 1 اگست تک گیانا میں ایکشن میں نظر آئے گا، جہاں لاہور قلندرز اپنی مہم کا آغاز 23 جولائی کو پرتھ اسکارچرز کے خلاف پہلے میچ سے کرے گی۔
اسکواڈ کی تفصیلات اور کپتانی
لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عاطف رانا نے پریس کانفرنس کے دوران اسکواڈ کی تفصیلات جاری کیں۔ نیوزی لینڈ کے مائیکل بریسویل کی قیادت میں میدان میں اترنے والی ٹیم میں مایہ ناز بلے باز عبداللہ شفیق، پرویز حسین، شایان جہانگیر اور ڈیلانو پوٹگیر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اسکواڈ کو مضبوط بنانے کے لیے اسامہ میر، شامل حسین، محمد نعیم، عمران رندھاوا، مہران ممتاز، فرحان یوسف، شہاب خان، محمد باسط اور علی شبیر کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
عاطف رانا کا کہنا تھا کہ اسکواڈ میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج برقرار رکھا گیا ہے، جس سے ابھرتے ہوئے کرکٹرز کو بین الاقوامی سطح کا ایکسپوژر ملے گا اور وہ تجربہ کار کھلاڑیوں سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔
شان ٹیٹ کی بطور ہیڈ کوچ تقرری
فرنچائز نے آسٹریلیا کے سابق اسپیڈ اسٹار شان ٹیٹ کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ عاطف رانا نے اس تقرری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شان ٹیٹ کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کا مائنڈ سیٹ ہمیشہ جیتنے والا (وننگ مائنڈ سیٹ) رہا ہے۔
ان کی کوچنگ سے ٹیم کے بولنگ اٹیک اور حکمت عملی کو خاصی مضبوطی ملے گی، جو عالمی سطح کے اس ٹورنامنٹ میں قلندرز کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔
گلوبل سپر لیگ دنیا بھر کی چند بہترین ٹی 20 اور فرنچائز ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا ایک منفرد ٹورنامنٹ ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے کرکٹ کلچر اور ٹیلنٹ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔
یہ ایونٹ 23 جولائی سے شروع ہو کر 1 اگست تک گیانا کے میدانوں پر کھیلا جائے گا۔ لاہور قلندرز پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم پرتھ اسکارچرز کے خلاف اپنے سفر کا آغاز کرے گی، جس پر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
لاہور قلندرز کی جانب سے مائیکل بریسویل کو کپتان مقرر کرنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ بریسویل نہ صرف نچلے نمبروں پر جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اپنی نپی تلی اسپن بولنگ اور قائدانہ صلاحیتوں سے کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ میں مقامی قیادت کے ساتھ کھیلنے والی قلندرز نے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے لیے ایک غیر ملکی تجربہ کار کھلاڑی کو کپتان بنا کر اپنی حکمت عملی میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوسری جانب، شان ٹیٹ کی بطور ہیڈ کوچ شمولیت قلندرز کے روایتی ’فاسٹ بولنگ ڈی این اے‘ کے عین مطابق ہے۔ لاہور قلندرز ہمیشہ سے تیز رفتار بولرز پیدا کرنے اور انہیں سپورٹ کرنے کے لیے جانی جاتی ہے اور شان ٹیٹ جیسے جارح مزاج بولر کی موجودگی ٹیم کے نوجوان بولرز بالخصوص مہران ممتاز اور اسامہ میر جیسے اسپنرز کو بھی مختلف زاویوں سے کھیل کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
عبداللہ شفیق اور اسامہ میر جیسے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی موجودگی سے اسکواڈ کو استحکام ملے گا، تاہم ٹیم میں کئی نئے اور ڈومیسٹک چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قلندرز اپنے اصل مقصد یعنی ’ٹیلنٹ کی تیاری‘ پر کاربند ہے، مگر پرتھ اسکارچرز جیسی ورلڈ کلاس ٹیم کے خلاف پہلے ہی میچ میں ان نوجوان کھلاڑیوں کے اعصاب کا کڑا امتحان ہوگا۔ اگر مڈل آرڈر میں نئے کھلاڑیوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو یہ اسکواڈ ٹورنامنٹ میں حیران کن نتائج دے سکتا ہے۔