اپنی منفرد اور خوفناک شکل کی وجہ سے کیبیج ٹری موتھ کی سُنڈی دنیا بھر میں دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یہ سُنڈی تقریباً 70 ملی میٹر لمبی اور غیر معمولی طور پر موٹی ہوتی ہے۔ اس کا جسم عموماً گہرے سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جس پر سفید کانٹے موجود ہوتے ہیں، جبکہ بعض اقسام سرخ جسم اور پیلے کانٹوں کے ساتھ بھی دیکھی جاتی ہیں۔ اس کی غیر معمولی ساخت اسے پہلی نظر میں کسی خلائی مخلوق جیسا بنا دیتی ہے۔
اگرچہ اس کے پورے جسم پر نوکیلے کانٹے موجود ہوتے ہیں، لیکن یہ سُنڈی انسانوں کے لیے مکمل طور پر بے ضرر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے کانٹے نرم اور اسفنج نما ہوتے ہیں اور ان کے چمکدار رنگ دراصل قدرتی دفاعی نظام کا حصہ ہیں، جو شکاری پرندوں اور جانوروں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ زہریلی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ افریقہ کے کئی علاقوں میں اس سُنڈی کو ایک مقبول غذا کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے۔یہ سُنڈیاں پودوں کے پتے کھانے میں انتہائی تیز ہوتی ہیں اور مختصر وقت میں درختوں کو پتوں سے تقریباً خالی کر سکتی ہیں۔
اپنی نشوونما مکمل ہونے کے بعد یہ زمین میں سوراخ بنا کر پیوپا کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں اور کچھ عرصے بعد بھورے رنگ کے ایک بڑے پروانے کی شکل میں باہر نکلتی ہیں۔