مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ اس وقت انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا جب امریکی فوج نے تاریخ میں پہلی بار جنگی کارروائیوں کے دوران ہلاکت خیز سمندری ڈرونز (سی ڈرونز) کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے اندر بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق بندر عباس نیول بیس پر امریکی یک طرفہ حملہ آور بحری ڈرونز نے تباہی مچائی ہے۔
اس فوجی کارروائی کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور دھماکا خیز اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس (چارجز) وصول کیے جائیں گے۔
امریکی فضائی و زمینی مہم اور ایران پر پہلا سمندری ڈرون حملہ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں امریکی افواج کو یک طرفہ حملہ کرنے والے سمندری ڈرونز کے ذریعے ایران میں آبدوزوں اور بحری جہازوں کی مرمت کی تنصیب (مینٹیننس فیسیلٹی) کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ایران پر حملہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑا اضافہ
سینٹکام نے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوج نے پہلی بار لڑائی میں سمندری ڈرونز کا استعمال کیا۔ 3 کورسیر نامی بغیر پائلٹ کے چلنے والے بحری جہازوں نے بندرعباس نیول بیس کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔
Yesterday, using multiple one-way attack surface drones, CENTCOM forces successfully struck a submarine and ship maintenance facility in Iran. Three Corsair unmanned surface vessels hit the port at Bandar Abbas Naval Base, marking the first time American forces have employed sea… pic.twitter.com/bOM2kmgRxz
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 13, 2026
اس کارروائی کا مقصد تجارتی جہاز رانی پر حملے کرنے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ ایک اور الگ بیان میں، سینٹکام نے تصدیق کی کہ 13 جولائی کو ختم ہونے والے 5 گھنٹے طویل مشن کے دوران امریکی افواج نے ایران بھر میں بشہر، چاہ بہار، جسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس سمیت کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا ’گارڈین آف ہرمز‘ بنانے کا اعلان اور 20 فیصد ٹیکس کا نفاذ
فوجی کارروائیوں کے دوران ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک انتہائی متنازع اور حیران کن اعلان کیا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’ آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلا ہے اور کھلا رہے گا۔ ہم ایرانی ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کر رہے ہیں، جس کا مقصد صرف ایران کے جہازوں اور ان کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے۔ دیگر تمام ممالک کو اس راستے کے منصفانہ اور کھلے استعمال کی اجازت ہوگی۔‘
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ اب سے امریکا کو ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ (دی گارڈین آف دی ہرمز اسٹریٹ) مانا جائے گا۔ لیکن اس خطے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے اخراجات اور انصاف کے تقاضوں کے تحت اس راستے سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس چارج کی جائے گی۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور اقوامِ متحدہ کا ردعمل
ٹرمپ کے اس اقدام پر عالمی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں اور سیکرٹری جنرل نے فوری طور پر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے سویلین جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی واشنگٹن کے 20 فیصد فیس کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کر دیا۔
آئی ایم او کونسل نے واضح کیا کہ سنہ 1948 کے کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس یا فیس نافذ نہیں کی جا سکتی اور تمام جہازوں کو بلاامتیاز اور بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے کا حق حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت اور معاشی بحران
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے نازک اور اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہ ہے۔ دنیا کی کل خام تیل کی سپلائی اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے آزاد تحقیقی ادارے ’اے سی اے پی ایس‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق فروری 2026 سے اس گزرگاہ کی مسلسل بندش اور کشیدگی نے پہلے ہی دنیا کو شدید تجارتی جھٹکا پہنچایا ہے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026

