توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار نیوز اینکر ریحان طارق کو لاہور کی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ضلع کچہری لاہور میں ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں ہوئی، دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ درکار نہیں ہے۔
تفتیشی افسر کے بیان کے بعد عدالت نے ریحان طارق کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا،سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ریمارکس دیے کہ مذہبی گفتگو کرتے وقت مذہبی علم اور احتیاط کو مدنظر رکھنا ضروری ہےاس سے قبل ملزم ریحان طارق کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی۔
واضح رہے کہ ریحان طارق کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔
معروف پوڈکاسٹر ریحان طارق کو لندن سے واپسی پر لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، ریحان طارق لندن سے لاہور پہنچے تھے، جہاں امیگریشن چیکنگ کے دوران ان کا نام پی این آئی ایل (PNIL) لسٹ میں شامل تھا جبکہ ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور میں مقدمہ بھی درج ہے۔
توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتا یوٹیوبر ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ پر گزشتہ دنوں سماعت ہوئی تھی ، عدالت نے ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا ریحان طارق پر توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا مقدمہ ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔