امریکی جنگی طیاروں کی جزیرہ کیش بندر گاہ پر بمباری، ایران کے جوابی حملے

امریکی جنگی طیاروں کی جزیرہ کیش  بندر گاہ پر بمباری، ایران کے جوابی حملے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مزید فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں دشمن کے اسلحہ ذخائر اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ کے ایران کیخلاف مسلسل تیسرے روز فضائی حملے شروع،بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ امریکی بیان کے مطابق بحری ناکہ بندی امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے سے نافذ کی جائے گی۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں دشمن کے اسلحہ ذخائر اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی علی السالم ایئربیس میں موجود ڈرون لانچنگ پیڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور یہ کارروائیاں ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 4 ہفتوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیں

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک خطے میں امریکی فوجی موجود ہیں، تیل اور گیس کی آزادانہ ترسیل ممکن نہیں ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اقدامات کا نتیجہ آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت میں مزید تاخیر اور کشیدگی کی صورت میں نکلے گا۔

دونوں ممالک کے حالیہ اقدامات کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جبکہ عالمی برادری اس تنازع کے ممکنہ اثرات، خصوصاً توانائی کی ترسیل اور علاقائی استحکام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

editor

Related Articles