پاکستان کی کتنے فیصد آبادی براڈبینڈ انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، رپورٹ آگئی

پاکستان کی کتنے فیصد آبادی براڈبینڈ انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، رپورٹ آگئی

پاکستان کی 97 فیصد آبادی کو براڈبینڈ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جبکہ ملک میں ایک اوسط صارف کا انٹرنیٹ ڈیٹا پر ماہانہ خرچ محض 285 روپے ہے۔

وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام شیزہ فاطمہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ملک بھر میں ڈیجیٹل خدمات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث انٹرنیٹ کے استعمال میں ریکارڈ وسعت دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موجودہ دور میں انفرا اسٹرکچر موٹروے نہیں، بلکہ براڈبینڈ انٹرنیٹ ہے: بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ نیٹ ورک کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور مستقبل میں ‘5جی’ سروسز کے آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے حکومت نے دستیاب موبائل سپیکٹرم کو 274 میگاہرٹز سے بڑھا کر 480 میگاہرٹز کر دیا ہے۔ یہ کامیابی مارچ میں کی جانے والی سپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے حاصل ہوئی۔

وزیر مملکت نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان میں ایک اوسط انٹرنیٹ صارف ماہانہ صرف 285 روپے ڈیٹا سروسز پر خرچ کرتا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت جلد ہی ’ٹیلی کام ترمیمی بل‘ پیش کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد ’رائٹ آف وے‘ (آر او ڈبلیو) کے فریم ورک کو آسان بنانا ہے۔

اس قانون سازی سے ملک بھر میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور براڈبینڈ نیٹ ورک مزید تیزی سے پھیلے گا۔

گذشتہ چند برسوں میں پاکستان میں سمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سستی ڈیٹا پلانز کی بدولت انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی اے کابڑا اقدام ، دورانِ پرواز انٹرنیٹ سروس کیلئے نیا فریم ورک جاری

 تاہم ٹیلی کام کمپنیاں اکثر سپیکٹرم کی کمی اور ‘رائٹ آف وے’ (سڑکوں اور عوامی مقامات پر کیبل بچھانے کی اجازت) کے حصول میں مقامی حکومتوں کی جانب سے تاخیر اور بھاری فیسوں کی شکایت کرتی رہی ہیں۔ مارچ کی سپیکٹرم نیلامی اور مجوزہ نیا قانون انہی دیرینہ مسائل کا مستقل حل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان میں 97 فیصد آبادی تک براڈبینڈ کی رسائی بلاشبہ ایک تاریخی سنگ میل ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم چیلنجز بھی وابستہ ہیں

اقتصادی پہلو اور سستی سروس

 ماہانہ 285 روپے کا اوسط خرچ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں سستا ترین انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

یہ سستی قیمت ڈیجیٹل شمولیت (ڈیجیٹل انکلوژن) کو تو بڑھاتی ہے لیکن ٹیلی کام کمپنیوں کے فی صارف اوسط ریونیو کو کم رکھتی ہے، جس سے کمپنیوں کے لیے نئے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نیٹ ورک کوالٹی بمقابلہ رسائی

 اگرچہ کاغذی حد تک رسائی 97 فیصد ہے، لیکن انٹرنیٹ کی اصل رفتار اور کوالٹی اب بھی ملک کے کئی علاقوں میں غیر تسلی بخش ہے۔ سپیکٹرم کو 274 سے بڑھا کر 480 میگاہرٹز کرنا ایک بہترین اقدام ہے، جس سے نیٹ ورک پر دباؤ کم ہوگا اور ‘5جی’ کی آمد ممکن ہو سکے گی۔

مجوزہ ترمیمی بل کی اہمیت

’رائٹ آف وے‘ کا مسئلہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اگر نیا بل منظور ہو جاتا ہے تو فائبر آپٹک بچھانے کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جو کہ ‘5جی’ نیٹ ورک کے کامیاب آغاز کے لیے ناگزیر ہے۔

Related Articles