بلوم برگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ دنیا کی اے آئی ماڈل کمپنیوں کے امیر ترین بانی بن گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لیانگ وین فینگ کی مجموعی دولت کا تخمینہ اب 36 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو اس سے قبل تقریباً 16.7 ارب ڈالر تھا۔ ان کی دولت میں نمایاں اضافہ ڈیپ سیک کی حالیہ فنڈنگ کے بعد کمپنی کی نئی مالیت مقرر ہونے سے ہوا۔اس اضافے کے بعد لیانگ وین فینگ نے اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو امودی اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جون میں ڈیپ سیک نے اپنی تاریخ کی پہلی بیرونی فنڈنگ حاصل کی، جس کے دوران کمپنی نے تقریباً 7.4 ارب ڈالر جمع کیے۔ اس فنڈنگ کے بعد کمپنی کی مالیت اپریل میں تقریباً 10 ارب ڈالر سے بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
اگرچہ اس سرمایہ کاری کے بعد لیانگ وین فینگ کی ملکیت میں معمولی کمی آئی، تاہم وہ اب بھی کمپنی کے تقریباً 78 فیصد حصص کے مالک ہیں، جو ان کی دولت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لیانگ وین فینگ نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ ڈیپ سیک مستقبل میں بھی مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) پر توجہ مرکوز رکھے گی اور اپنے اوپن سورس اے آئی ماڈلز جاری رکھنے کی حکمت عملی برقرار رکھے گی۔
اسی حکمت عملی نے ڈیپ سیک کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے اور بڑی اے آئی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دی ہے۔ڈیپ سیک کو جنوری 2025 میں اپنے R1 اے آئی ماڈل کی بدولت عالمی شہرت ملی، جس نے کم لاگت میں بہتر کارکردگی دکھا کر توجہ حاصل کی۔
میڈیا رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ لیانگ وین فینگ کی دولت کا تخمینہ نجی کمپنی کی مالیت اور حصص کی ملکیت کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، کیونکہ ڈیپ سیک اسٹاک مارکیٹ میں فہرست شدہ کمپنی نہیں ہے، اس لیے ان کے اثاثوں کی حقیقی مالیت میں وقت کے ساتھ تبدیلی آ سکتی ہے۔