آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت ہٹیاں بالا، وادی لیپہ، میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ، راولاکوٹ، حویلی، سدھنوتی، نیلم اور دیگر علاقوں میں بدھ کے روز کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہا۔
مختلف شہروں میں مارکیٹیں، دکانیں، تجارتی مراکز، سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق فعال رہے جبکہ شہری اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف دکھائی دیے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی لانگ مارچ کی کال کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی،بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق خرید و فروخت، تجارتی سرگرمیاں، ٹریفک کی آمدورفت اور دیگر روزمرہ امور بلا تعطل جاری رہے۔
دارالحکومت مظفرآباد میں صبح سے ہی بازاروں اور مرکزی شاہراہوں پر معمول کی چہل پہل دیکھی گئی،دفاتر میں ملازمین کی حاضری معمول کے مطابق رہی جبکہ کاروباری مراکز میں بھی سرگرمیاں جاری رہیں۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوں،ہٹیاں بالا میں بھی صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی، مقامی بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ سروس جاری رہی اور لوگ اپنے کاروبار اور روزگار میں مصروف رہے۔
مقامی شہریوں نے کہا کہ وہ انتشار اور بے یقینی کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خطے میں امن و سکون برقرار رہے تاکہ روزگار، تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
وادی لیپہ میں بھی معمولاتِ زندگی میں کسی قسم کی رکاوٹ دیکھنے میں نہیں آئی، بازاروں میں خریداری جاری رہی جبکہ مقامی افراد اپنے روزمرہ کے معمولات انجام دیتے رہے،شہریوں نے کہا کہ انہیں سیاسی کشیدگی یا تصادم کی سیاست کے بجائے علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معاشی بہتری زیادہ اہم ہے۔
میرپور، کوٹلی، بھمبر، باغ، راولاکوٹ، نیلم، حویلی اور سدھنوتی سمیت دیگر اضلاع میں بھی کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں،تاجروں نے اپنی دکانیں کھلی رکھیں جبکہ عوام کی بڑی تعداد روزمرہ خریداری اور دیگر کاموں میں مصروف رہی۔ ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی معمول کے مطابق جاری رہی اور کسی بڑے تعطل کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مختلف علاقوں کے شہریوں کا کہنا تھا کہ مسلسل احتجاجی کالوں اور تصادم کی فضا نے عام لوگوں کو ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا ہے،ایسے اقدامات سے سب سے زیادہ متاثر روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، چھوٹے تاجر، طلبہ اور عام شہری ہوتے ہیں، اس لیے عوام اب ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 15 جولائی کو لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی، تاہم آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہے اور کاروباری، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں کسی بڑے تعطل کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔