امریکا کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

امریکا کے سامنے  کبھی نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش نہیں رکھتا اور ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے۔ تاہم امریکا کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی  کے مطابق صدر پزیشکیان نے امریکی پابندیوں اور حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں پر تنقید کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو انسانی ہمدردی کے اصولوں کے منافی اور ناقابل جواز قرار دیا۔
جوہری الزامات مسترد
صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف تباہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تہران پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کردار کی تعریف

انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم امریکا یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ ڈال کر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک طاقت کے استعمال اور دباؤ کے ذریعے مسلط کیے جانے والے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے بیان میں مذاکرات کے لیے آمادگی کے ساتھ قومی خودمختاری پر سمجھوتا نہ کرنے کا مؤقف بھی نمایاں ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی
امریکا اور اسرائیل کے مارچ میں ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال کشیدہ ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق تنازع کے اثرات یمن اور سعودی عرب تک بھی پھیل گئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکہ وفود کی ملاقات، ایران نے بڑی پیشکش کر دی،اہم تفصیلات سامنے آگئیں
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں بحری نقل و حمل اور سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش
رپورٹ کے مطابق ایران نے مارچ سے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے۔ امریکی کوششوں کے باوجود یہ اہم آبی گزرگاہ تاحال نہیں کھل سکی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس صورت حال سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

editor

Related Articles