پی ٹی آئی کرپشن کی ایک اور داستان منظر عام پر، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایک شخص کی تقرری پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے لوٹ لیے

پی ٹی آئی کرپشن کی ایک اور داستان منظر عام پر، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایک شخص کی تقرری پر قومی خزانے سے کروڑوں روپے لوٹ لیے

خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے طبی ادارے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی کے زیرِ انتظام اقربا پروری اور مالی بدعنوانی کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک غیر متعلقہ اور کم اہلیت کے حامل فرد کو کروڑوں روپے کے مالی فوائد سے نوازا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل خبروں کے مطابق خیبر پختونخوا کی سرکاری آڈٹ رپورٹ اور انکوائری دستاویزات کے مطابق 16 جنوری 2017 کو سلیکشن اینڈ پروموشن کمیٹی کے ذریعے محمد طارق کو اسپتال میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر (اے ایچ ڈی) کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

اس تقرری کے تحت انہیں 5 لاکھ 8 ہزار 892 روپے ماہانہ کی فکسڈ پے پر رکھا گیا، جس کے نتیجے میں اگست 2019 تک 43 ماہ کے مختصر عرصے کے دوران قومی خزانے سے مجموعی طور پر 2 کروڑ 18 لاکھ 82 ہزار 356 سو روپے ادائیگیاں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی کرپٹ حکومت جاتے ہی کے پی میں تعمیر و ترقی کا سورج طلوع ، 12 اضلاع کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ محمد طارق، بورڈ آف گورنرز کے پی ٹی آئی دور کے سرکردہ رہنما اور نگران ڈاکٹر نوشیروان برکی کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں قواعد کو بالا طاق رکھ کر اس اہم ترین انتظامی عہدے سے نوازا گیا۔

تجربے، تعلیمی اسناد اور سرٹیفکیٹس میں سنگین تضادات

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مذکورہ آسامی کے لیے جاری کردہ اشتہار اور قواعد کے مطابق امیدوار کے پاس اسپتال یا ہیلتھ سروسز مینجمنٹ، بزنس مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری کے ساتھ انتظامی سطح پر کم از کم 7 سال کا بعد از ڈگری (پوسٹ کوالیفکیشن) تجربہ ہونا لازمی تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں اعتراض اٹھایا گیا کہ ریکارڈ کی چھان بین سے معلوم ہوا کہ محمد طارق نے ایم بی اے کی ڈگری 2010 میں حاصل کی تھی اور درخواست جمع کرانے و تقرری کے وقت ان کا بعد از ڈگری تجربہ مطلوبہ 7 سال کی حد سے بہت کم تھا۔

آڈٹ میں امیدوار کی اسناد اور پیش کردہ تجربہ سرٹیفکیٹس میں بھی صریحاً تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ محمد طارق کے سی وی اور تجربہ سرٹیفکیٹس میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اور نجی فلاحی ادارے ’سہارا فار لائف ٹرسٹ‘ میں ملازمت کی مدت میں واضح فرق پایا گیا۔

حیران کن طور پر سہارا ٹرسٹ کی جانب سے تجربے کا ایک سرٹیفکیٹ 16 دسمبر 2008 کو جاری کیا گیا، جبکہ اس میں ان کی ملازمت کی اختتامی مدت 20 جنوری 2009 درج کی گئی تھی، جو انتظامی ریکارڈز پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اشتہار میں کون سی شرائط درج تھیں؟

فراہم کردہ متن کے مطابق آسامی کے لیے اسپتال یا صحت کی خدمات کے انتظام، کاروباری نظم و نسق، صحتِ عامہ، نظمِ عامہ یا اس کے مساوی انتظامی شعبے میں ماسٹرز ڈگری مطلوب تھی۔

ابتدائی آڈٹ حصے میں انتظامی عہدے پر کم از کم 7 سال کا تجربہ لازمی شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ امیدوار کے لیے مالیات، بجٹ سازی، معاون خدمات اور عمارتوں کی دیکھ بھال سمیت اسپتال کے غیر طبی امور سے واقفیت بھی ضروری بتائی گئی۔

اس کے برعکس، انکوائری رپورٹ میں نقل کردہ اشتہاری شرائط میں انتظامی ماسٹرز کے ساتھ طبی ڈگری رکھنے والے امیدواروں اور انتظامی عہدوں پر کم از کم 7 سال کے تجربے کے لیے ترجیح کی عبارت استعمال ہوئی ہے۔ لازمی اہلیت اور ترجیحی اہلیت کے درمیان یہ فرق تقرری کے جائزے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انکوائری متن خود یہ بھی بتاتا ہے کہ اشتہار کی نقل فائل میں دستیاب نہیں تھی، اگرچہ اشتہاری شرائط اور آخری تاریخ کے لیے ضمیمہ الف کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اصل شائع شدہ اشتہار کے بغیر اس لفظی فرق کا قطعی تصفیہ ممکن نہیں۔

29 درخواستیں، 10 انٹرویو، زیادہ متعلقہ اہلیت رکھنے والے نظر انداز

انکوائری رپورٹ کے مطابق آسامی کے لیے مجموعی طور پر 29 امیدواروں نے درخواستیں دیں، جن میں سے 10 کو مختصر فہرست میں شامل کرکے انٹرویو کیا گیا۔ درخواستوں، مختصر فہرست اور حتمی میرٹ ریکارڈ کے لیے ضمیمہ ب اور ج کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ زیادہ متعلقہ تعلیمی قابلیت اور 7 سال سے زیادہ مطلوبہ تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو نظرانداز کرکے ایسے امیدوار کو منتخب کیا گیا جس کا مطلوبہ ڈگری کے بعد کا تجربہ کم تھا۔ اس سلسلے میں فہرست کے سلسلہ نمبر 1، 3، 9 اور 28 پر موجود امیدواروں کا خصوصی ذکر کیا گیا، جن کے پاس طبی اور انتظامی، دونوں شعبوں کی اسناد ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

متن ان نمبروں کو مختصر فہرست سے منسوب کرتا ہے، حالانکہ انٹرویو کیے گئے امیدواروں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے۔ اس لیے متعلقہ ضمیمے کے بغیر یہ واضح نہیں کہ مذکورہ نمبر تمام درخواست گزاروں کی اصل فہرست کے ہیں یا کسی دوسری جانچ فہرست کے۔ کمیٹی نے دستیاب اسناد، اہلیت کی شرائط، منظور شدہ بھرتی پالیسی اور دیگر امیدواروں کے کوائف کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد تقرری کو میرٹ پر مبنی قرار دینے سے اختلاف کیا۔

منتخب امیدوار کی تعلیمی قابلیت اور ملازمتی ریکارڈ

فراہم کردہ ریکارڈ میں محمد طارق کی تعلیمی قابلیت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کاروباری نظم و نسق میں کامن ویلتھ ماسٹرز درج ہے۔

ان کے تجربے کی تفصیل کے مطابق وہ اگست 2010 سے ریکارڈ میں مذکور وقت تک لیاقت نیشنل اسپتال، کراچی میں منیجر پرچیز رہے۔ اس سے پہلے دسمبر 2008 سے جولائی 2010 تک معروف انٹرنیشنل اسپتال، اسلام آباد میں خریداری اور سامان کے انتظام کے منیجر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اگست 2006 سے دسمبر 2008 تک سہارا فار لائف ٹرسٹ میں سامان کے انتظام کے منیجر رہے، جبکہ جون 2000 سے جولائی 2006 تک شوکت خانم اسپتال کے متعلقہ شعبے میں مختلف عہدوں پر کام کیا۔ روٹس شوز میں ایک سال پروڈکشن افسر رہنے کا تجربہ بھی درج ہے، تاہم اس ملازمت کی تاریخیں فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔

آڈٹ متن میں ان کے تعلیمی نتائج کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے مطابق میٹرک میں سی گریڈ، انٹرمیڈیٹ میں ڈی گریڈ، بیچلرز میں دوسری ڈویژن اور ماسٹرز میں بی گریڈ تھا۔ رپورٹ نے اس تعلیمی ریکارڈ اور دیگر امیدواروں کی اہلیت کے تقابل سے انتخاب کی شفافیت پر سوال اٹھایا ہے۔ تاہم صرف تعلیمی ڈویژن یا گریڈ تقرری میں بے ضابطگی کا فیصلہ کن ثبوت نہیں؛ اس کا جائزہ مشتہر شرائط، منظور شدہ معیار اور تمام امیدواروں کی یکساں جانچ کے ساتھ ہی لیا جاسکتا ہے۔

تجربے کی دستاویزات میں تاریخوں کا فرق

آڈٹ جائزے میں شوکت خانم اسپتال کی ملازمت سے متعلق دو مختلف اختتامی تاریخوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

محمد طارق کے سوانحی کوائف میں یہ مدت 20 جون 2000 سے 31 جولائی 2006 درج تھی، جبکہ فراہم کردہ تجربے کے سرٹیفکیٹ میں اختتامی تاریخ 16 اگست 2006 لکھی گئی تھی۔ رپورٹ نے اس فرق کو دستاویزی عدم مطابقت کے طور پر اٹھایا، تاہم فراہم کردہ مواد میں اس کی وضاحت یا متعلقہ ادارے کی تصدیق شامل نہیں۔

سلیکشن کمیٹی کی تشکیل بھی اعتراض کی زد میں

انکوائری متن کے مطابق ایسوسی ایٹ اسپتال ڈائریکٹر کا عہدہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کے قانون یا متعلقہ ضوابط میں درج نہیں تھا، بلکہ اسے شوکت خانم اسپتال کے طرز پر متعارف کرایا گیا تھا۔

رپورٹ نے ضابطہ 13 اور ضمیمہ د کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل، اسپتال، نرسنگ اور فنانس ڈائریکٹرز کے عہدوں کے علاوہ دیگر آسامیوں پر تقرری کے اختیارات بورڈ کی جانب سے اسپتال اور میڈیکل ڈائریکٹرز کو تفویض کیے جانے تھے۔

منظور شدہ بھرتی پالیسی، جس کے لیے ضمیمہ ہ کا حوالہ دیا گیا ہے، کے تحت متعلقہ سلیکشن کمیٹی میں اسپتال ڈائریکٹر بطور چیئرمین، ڈائریکٹر انسانی وسائل اور میڈیکل ڈائریکٹر بطور ارکان شامل ہونے تھے۔

اس کے برعکس، زیرِ اعتراض تقرری ایسی کمیٹی کے ذریعے کیے جانے کی نشاندہی کی گئی جس میں بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین بطور رکن یا سربراہ شامل تھے۔ رپورٹ نے اس تشکیل کو متعلقہ ضابطے اور بھرتی پالیسی سے متصادم قرار دیا۔

منظور شدہ معیار کے مقابلے میں انٹرویو کے 100 نمبر

فراہم کردہ حتمی جانچ شیٹ کے مطابق متعلقہ تعلیمی قابلیت کے لیے 25، تجربے کے لیے 20، طبی ڈگری کے لیے 20 اور انٹرویو کے لیے 100 نمبر مقرر کیے گئے تھے۔

متن کے مطابق تمام 10 امیدواروں کو تعلیمی قابلیت میں 25 اور تجربے میں 20، 20 نمبر دیے گئے، جبکہ صرف 4 امیدواروں کو طبی ڈگری کی مد میں 5، 5 نمبر ملے۔ طبی ڈگری کے لیے بیان کردہ 20 نمبروں کے مقابلے میں 5 نمبر دینے کی بنیاد فراہم کردہ اقتباس میں واضح نہیں۔

دوسری جانب، انکوائری رپورٹ میں منظور شدہ سلیکشن معیار یوں درج ہے۔

جانچ کا شعبہ

مقررہ نمبر

تعلیمی قابلیت

20

متعلقہ تجربہ

20

اسپتال یا معتبر طبی ادارے کا تجربہ، اختیاری

10

مطلوبہ قابلیت سے زائد متعلقہ تربیت یا سرٹیفکیٹ

10

انتظامی یا اس سے اعلیٰ عہدے کے ریفرنسز

10

انٹرویو

30

اس تقسیم میں انٹرویو کے لیے 30 نمبر تھے، جبکہ استعمال شدہ جانچ شیٹ میں 100 نمبر درج ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ یوں انٹرویو کا وزن بڑھنے سے انتخاب کے مجموعی نتیجے پر اس کا اثر بھی نمایاں طور پر بڑھ سکتا تھا۔

اسکول سانحہ کے زخمیوں کی عیادت پر بھانڈا پھوٹ گیا

اسپتال کی 100 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ایک عام نان کلینیکل شخص کو اسپتال کا مکمل ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔

یہ معمہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب سابق صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور سکول سانحہ کے زخمی بچوں کی عیادت کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچیں۔

اس دورے کے دوران انتظامی امور میں شدید بے ضابطگیوں پر جب انہوں نے انتظامیہ سے جواب طلبی کی تو معلوم ہوا کہ اسپتال کا سیاہ و سفید کا مالک اور اسپتال ڈائریکٹر خود کوئی میڈیکل ڈاکٹر ہی نہیں ہے۔

نیب انکوائری کی سفارشات اور پی ٹی آئی حکومت کا انعام

آڈٹ نے پورے انتخاب کے عمل کو مشکوک اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ بعد از ڈگری تجربہ نہ ہونے کے باوجود محمد طارق کی تقرری سے کئی مستحق اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل اہل امیدواروں کو میرٹ سے محروم رکھا گیا۔

مزید پڑھیں:سندھ کے کرپٹ حکمرانوں نے دبئی، لندن  میں جاگیریں بنائیں،نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں،مصطفیٰ کمال

آڈٹ رپورٹ میں اس اعلیٰ سطح کی بے ضابطگی پر معاملے کی نیب (قومی احتساب بیورو)، محکمہ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) اور گورنمنٹ انسپکشن ٹیم کے ذریعے تحقیقات کرانے اور قومی خزانے کو پہنچائے گئے نقصان کی ریکوری کی واضح سفارش کی گئی تھی۔

تاہم پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے انکوائری کرانے اور رقم واپس لینے کے بجائے الٹا مذکورہ شخص کو بطور انعام پورے اسپتال کی قیادت اور ڈائریکٹر کا مکمل چارج سونپ دیا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں خیبر پختونخوا حکومت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) ایکٹ نافذ کر کے اسپتالوں کا نظام ڈاکٹر نوشیروان برکی کے سپرد کیا تھا۔

اصلاحات کے نام پر ادارے کو خود مختاری دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور دعویٰ تھا کہ اسپتال کو شوکت خانم اسپتال کے عالمی معیارات پر استوار کیا جائے گا۔

لیکن حقیقت میں اس ایکٹ کی آڑ میں نئے غیر قانونی عہدے تخلیق کیے گئے اور صوبائی حکومت کے تعاون سے ادارے کے اندر میرٹ کو یکسر پامال کر کے اپنے منظورِ نظر افراد کو اہم ترین عہدوں پر قابض کر دیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں: کے پی میں گورنر راج کے ثمرات آنے لگے، پی ٹی آئی کی 13 سالہ ناکامی کا ملبہ صاف کرنے میں وقت لگے گا، کھیئل داس کوہستانی

طبی اداروں میں غیر متعلقہ اور غیر اہل افراد کی سیاسی بنیادوں پر اہم انتظامی عہدوں پر تاحیات یا طویل المدتی تقرریاں دراصل صحت کے پورے نظام کو مفلوج کرنے کے مترادف ہوتی ہیں۔

جب صحت جیسے حساس شعبے میں طبی اور انتظامی تجربے سے محروم افراد کو صرف شخصی یا سیاسی قربت کی بنیاد پر لایا جائے تو وہاں میرٹ کی پامالی کے ساتھ ساتھ اصلاحاتی عمل کی روح بھی دم توڑ دیتی ہے۔

سرکاری آڈٹ اور انکوائری کمیٹیوں کی واضح نشاندہی اور نیب و اینٹی کرپشن کی سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ملزم کو ترقی دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح اداروں کو باقاعدہ منصوبی بندی کے تحت سیاسی مقاصد اور مالی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس طرزِ عمل سے نہ صرف عوامی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا بلکہ اسپتال کی صدی پرانی ساخ کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔

Related Articles