خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن کے قیام اور ترقیاتی عمل تیز کرنے کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پشاور میں ہونے والے اجلاس میں ترقیاتی فنڈز کے بروقت اجرا اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں کور کمانڈر پشاور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ کے ارکان اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ اضلاع کی امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی ضروریات اور عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔ شرکاء نے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان کی مقررہ وقت پر تکمیل پر زور دیا۔
12 اضلاع پر توجہ
اجلاس میں ضم شدہ اضلاع کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان علاقوں میں پائیدار امن کے قیام اور عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے ترقیاتی فنڈز کے بروقت اجرا کے ساتھ ان کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اس سلسلے میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور مقررہ اہداف کے مطابق کام مکمل کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ مقامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترقیاتی منصوبہ بندی کی جائے۔ شرکاء نے مقامی عمائدین اور کونسل کے نمائندوں کی تجاویز کی روشنی میں وسائل مختص کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
امن اور ترقی کا مشترکہ ہدف
اجلاس میں وفاقی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں عوامی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ترقیاتی عمل تیز کرنے اور پائیدار امن کے قیام سے متعلق اقدامات پر زور دیا گیا۔
شرکاء کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ فنڈز کی دستیابی کے ساتھ ان کا شفاف استعمال بھی منصوبوں کے مؤثر نتائج کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
اجلاس میں جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تکمیل میں تاخیر سے بچنے پر زور دیا گیا۔ مقامی عمائدین اور منتخب نمائندوں کی تجاویز کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں ترقیاتی ضروریات کے ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کے ذریعے ترقیاتی کام آگے بڑھانے اور عوامی مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
تاہم اجلاس میں فنڈز کی مجموعی مالیت، ضلع وار تقسیم، اجرا کی حتمی تاریخ اور منصوبوں کی مخصوص تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں فوری فراہمی کے فیصلے کے عملی نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے مزید معلومات درکار ہوں گی۔