ایران نے امریکا کیخلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائرکردیا

ایران نے امریکا کیخلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائرکردیا

ایران نے امریکا کے خلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے جوہری تنصیبات کے خلاف فوجی جارحیت ، اقتصادی پابندیوں اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کی بنیاد پر امریکا کے خلاف بین الاقوامی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔

ایرانی حکومت نے اپنی درخواست کی بنیاد 1981 کے الجزائر معاہدوں پر رکھی اور امریکا پر ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، مقدمہ ایران امریکا کلیمز ٹریبونل میں درج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : تجاویزپر غور جاری، امریکا کی کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے ، ایران

ایران نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران کے داخلی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت ختم کرنے کا پابند بنائے، اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ ایسی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی جبکہ ملک کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس وقت ایران امریکا کے درمیان سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام کا ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے اور اندرونی سطح پر افزودگی مکمل طور پر بند کرے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ ان معاملات پر بات چیت بعد کے مرحلے میں ہونی چاہیے۔

علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران مستقبل میں نہ صرف یورینیم افزودگی مکمل طور پر روک دے گا بلکہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں بھی ترک کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں :14 نکاتی تجاویز میں درج ایرانی عوام کے حقوق قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں، باقر قالیباف

ادھر ایران کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی ان کا قانونی حق ہے اور وہ مکمل طور پر جوہری سرگرمیاں بند کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہوگا۔

editor

Related Articles