امریکا نے اسرائیل اور لبنان میں براہ راست مذاکرات پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ممکنہ ملاقات کی تجویز پیش کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بیروت میں امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’’براہِ راست رابطہ‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں اسرائیلی وزیرِاعظم اور لبنانی صدر کے درمیان ملاقات بھی شامل ہو سکتی ہے۔
بیان کے مطابق اس مجوزہ ملاقات سے لبنان کو اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، محفوظ سرحدوں، انسانی امداد اور تعمیر نو کے حوالے سے ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ لبنانی ریاست کی عملداری کی مکمل بحالی بھی ممکن ہو گی۔
امریکی سفارت خانے نے مزید کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے تیار ہے تاکہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔
دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر جوزف عون نے فی الحال اسرائیلی وزیرِاعظم سے براہِ راست بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
لبنانی صدر جنرل جوزف عون نے گزشتہ روز کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوب میں اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس میں گھروں اور عبادت گاہوں کی مسماری اور انہیں مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کرنا شامل ہے، جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ 2026ء سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک شہداء کی تعداد 2586 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 8020 تک پہنچ گئی ہے۔