امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مستقبل میں یورینیم افزودگی مکمل طور پر روک دے گا اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں بھی ترک کر دے گا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کسی ممکنہ نئے معاہدے کے تحت ایسی شرائط قبول کر لے گا جو اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مواد امریکا اپنی تحویل میں لے گا، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات مکمل احتیاط کے ساتھ لیکن بغیر جلد بازی کے آگے بڑھائے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد پابندیاں بدستور برقراررہیں گی اور امریکا کسی بھی فیصلے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرے گا، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے خطے میں بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ ماضی میں ایرانی حکام سے براہِ راست رابطے بھی کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سماجی رابطے کی ویب گاہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو ردعمل میں ایران 90 فیصد تک یورینیم افزودگی کر سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی اس کا قانونی حق ہے اور وہ اپنی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔