گیس کی لوڈشیڈنگ کا متبادل؟ پانی سے چلنے والا ہائیڈروجن چولہا متعارف

گیس کی لوڈشیڈنگ کا متبادل؟ پانی سے چلنے والا ہائیڈروجن چولہا متعارف

لوڈشیڈنگ اور گیس کی کمی سے پریشان صارفین کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جس نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک کمپنی نے ایسا جدید چولہا تیار کیا ہے جو پانی سے ہائیڈروجن پیدا کر کے کھانا پکانے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

’’گرین وائز‘‘ نامی کمپنی کے مطابق یہ سسٹم پی ای ایم الیکٹرولائزر ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے، جس میں پانی کو برقی عمل کے ذریعے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہائیڈروجن بطور ایندھن جلتی ہے جبکہ آکسیجن ماحول میں واپس شامل ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چین کی خطرناک ترین پہاڑی سڑک، 18 ہیئرپن موڑ ڈرائیوروں کے لیے امتحان

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس چولہے کے ذریعے صرف 100 ملی لیٹر ڈسٹلڈ واٹر اور تقریباً 1 کلو واٹ گھنٹہ بجلی استعمال کر کے 6 گھنٹے تک مسلسل کھانا پکایا جا سکتا ہے۔ اسے سولر سسٹم کے ساتھ بھی جوڑا جا سکتا ہے، جس سے یہ بجلی یا گیس کی بندش والے علاقوں میں ایک متبادل حل بن سکتا ہے۔

یہ سسٹم گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور اجتماعی کچن کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایک برنر ماڈل کی قیمت تقریباً 1128 ڈالر جبکہ دو برنر ماڈل کی قیمت 1610 ڈالر رکھی گئی ہے، جس میں ٹیکس شامل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پرندوں کی دنیا کا ننھا انجینئر، درزی چڑیا کا حیرت انگیز گھونسلا

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی توانائی کو براہ راست ایندھن میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کرتی ہے، تاہم اس کی عملی افادیت، لاگت اور بڑے پیمانے پر استعمال کے حوالے سے مزید تجربات اور جانچ ضروری ہیں۔

اگر یہ نظام وسیع پیمانے پر قابل عمل ثابت ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل میں توانائی کے متبادل ذرائع میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گیس اور بجلی کی دستیابی مستقل مسئلہ ہے۔

editor

Related Articles