ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو معاشی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے ایران کے خلاف جاری جنگِ انتخاب کی قیمت امریکی عوام کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی صورت میں چکانا پڑے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی حالات مزید سخت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2 سالہ، 10 سالہ اور 30 سالہ بانڈ ییلڈز میں اضافہ قرضوں، ہاؤسنگ مارگیجز اور صارفین کے قرضوں پر دباؤ بڑھا دے گا، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور گھریلو مالی مشکلات مزید شدت اختیار کریں گی۔
عباس عراقچی نے نے کہا کہ یہ تمام صورتحال قابلِ گریز تھی، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ نے جنگ بندی سے قبل بھی امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کو تیل کی قیمتوں سے خبردار کیا تھا۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برکس ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ سے وابستہ ”برتری اور استثنیٰ“ کی تہذیب کے خلاف کوششیں تیز کرے، برکس کے بہت سے ممالک پہلے ہی امریکی جبر اور دباؤ سے واقف ہیں، ایران ”غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگ پسندی کا شکار“ رہا ہے۔ تہران جنگ کیلئے تیار ہے لیکن سفارتی روابط کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔