رواں مالی سال کی پہلی ششماہی ،جولائی تا دسمبر کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 386 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ایف بی آر نے 5623 ارب روپے اکٹھے کیے جو 6009 ارب روپے کے مطلوبہ ہدف سے کم ہیں۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق دسمبر 2024 میں ایف بی آر نے 1328 ارب روپے کی وصولی کی جو ماہانہ ہدف کا 97 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دسمبر میں اب تک کی سب سے زیادہ ٹیکس وصولی ہے، جو کہ کارکردگی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی کا یونٹ 45 روپے کیسے؟نیپرا نے اضافی چارجز کی حقیقت بے نقاب کردی
آئی ایم ایف نے دسمبر 2024 کے اختتام تک محصولات کا ہدف 6009 ارب روپے مقرر کیا تھا تاہم ایف بی آر نے ابتدائی 6 ماہ میں 5623 ارب روپے کی خالص وصولی کی۔ ٹیکس شارٹ فال کے حوالے سے ابتدائی اندازے 400 ارب روپے سے زائد تھے لیکن ابھی بھی کچھ ایڈوانس کلیکشن کے اعداد و شمار کا تعین ہونا باقی ہے۔ ریفنڈز اور بینک منافع پر ٹیکسرواں مالی سال میں ایف بی آر نے 272 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جبکہ بینکوں کے منافع پر 44 فیصد کی شرح مقرر کرنے کے بعد 72 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کے تحت یہ اقدام کیا گیا تھا۔ ایف بی آر کو شارٹ فال کے باعث مزید مالیاتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی تاکہ آئی ایم ایف کے اہداف پورے کیے جا سکیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق مزید شفافیت اور کارکردگی بہتر کرنے کے لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔